Monday, August 01, 2005

جسے اللہ رکھے

کچھ ہفتے قبل میں نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ لکھا تھا اور عنوان رکھا تھا سر منڈاتے ہی اولے پڑے ۔ ایک قاری نے ۔ملّا نہ سمجھ لیں قاری پڑھنے والے کو کہتے ہیں۔ ہاں تو ایک قاری نے بالکل صحیح تجویز کیا تھا کہ عنوان جسے اللہ رکھے ہونا چاہیئے تھا ۔ مگر میں نے عنوان اپنے والدین کی پریشانی کے لحاظ سے رکھا تھا ۔ خیر ۔ آج پھر میں گڑبڑ کرنے لگا تھا کہ مجھے اپنے قاری کی تجویز یاد آ گئي ۔ آج کل روشن خیال اسلام کی تعمیر زور شور سے جاری ہے جس کے نتیجہ میں جہاد سے متعلق آیات کورس کی کتابوں سے نکالنے کا حکم ہے اور اسی سال کے اندر سارے دینی مدرسوں کو بند کرنا ہے ۔ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ۔ نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھرنکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ایک دوست کی یاد آئی جو ایک سال قبل اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے تھے ۔ اختر صاحب سے میری ملا قات بیالیس سال قبل ہوئی جو آہستہ آہستہ دوستی میں ڈھل گئی ۔ انہوں نے ترپن سال قبل انجنیئرنگ کالج لاہور سے الیکٹریکل انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی ۔ وہ مجھ سے تیرہ سال بڑے تھے اس لئے بے تکلف دوستی ہوتے ہوئے بھی احترام قائم رہا ۔ اختر صاحب صاف گو انسان اور باعمل مسلمان تھے ۔ اکتیس سال قبل وہ کسی ٹریننگ پروگرام کے تحت چیکوسلواکیہ گئے ۔ وہ ملک جو اب دو یا تین ملکوں میں بٹ چکا ہے ۔ اس زمانہ میں یہ کٹر کیمیونسٹ ملک تھا اور مسلمانوں والا نام رکھنا بھی واجب القتل جرم تھا ۔ واپس آ کر انہوں نے اس وقت کے لحاظ سے عجیب واقعہ مجھے سنایا جو اختر صاحب کی زبانی مختصر درج کرتا ہوں ۔ میں جس فیکٹری میں تھا وہاں کوئی دو سو مقامی نوجوان تربیت لے رہے تھے ۔ ان کے بال بہت لمبے تھے اور جینز ۔ بنیان اور جیکٹ پہنتے تھے ۔ بظاہر بالکل لا پرواہ تھے اور اپنی زبان کے علاوہ اور کوئی زبان نہیں بولتے تھے ۔ ایک دن میرا پاکستانی ساتھی بیمار ہونے کی وجہ سے فیکٹری نہ گیا ۔ دوپہر کی بریک کے دوران کیفیٹیریا میں ایک میز کے ساتھ اکیلا بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان احتیاط سے ادھر ادھر دیکھ کر جلدی سے میرے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔ چند منٹ بعد اس نے میری طرف اشارہ کر کے میرے کان میں کہا ۔ لا الہ ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے میرے کان میں کہا الحمدللہ ۔ پھر اس نے اشاروں سے پوچھا کہ تمہارا ساتھی کیا ہے ؟ میں نے کہا لا الہ تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور اشاروں سے مجھے سمجھایا کہ وہ مسلمان نہیں وہ شراب پیتا ہے ۔ اس دن کے بعد جب بھی کیفیٹیریا میں کوئی آفیسر موجود نہ ہوتا وہ میرے پاس آ کر بیٹھ جاتا اور اشاروں میں پاکستان کے متعلق پوچھتا رہتا ۔ کبھی قرآن شریف کی کوئی سورۃ مجھے سنا دیتا ۔ ایک دن وقفہ لمبا تھا تو اس نے مجھے پوری سورۃ بقرہ سنا دی ۔ میں نے ہمت کر کے اسے پوچھا کہ قرآن تم نے کہاں سے سیکھا تو اس نے بتایا کہ ایک استاد ہے جو ان کی طرح کسی اور فیکٹری میں کام کرتا ہے لیکن سب کچھ خفیہ ہے اگر کسی کو پتہ چل جائے تو سب کو ہلاک کر دیا جائے گا ۔ پھر ایک دن میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ان کے گروہ میں بارہ ہزار مسلمان ہیں اور آہستہ آہستہ تعداد بڑھ رہی ہے ۔
اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن شریف کی حفاظت اپنے ذمّہ لے رکھی ہے ۔ یہ واقعہ اس کی ایک ادنی مثال ہے ۔ مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتاہے جو منظورخدا ہوتا ہے اپنے مکروہ ارادوں کو جتنا چاہیں خوشنما بنا لیں صیہونی ۔ نیو کان ۔ان کے باج گذار اور خوشامدی ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے مسلمانوں کو گبھرانا نہیں چاہیئے اور علّامہ اقبال کا یہ شعر یاد رکھنا چاہیئے تندیء باد مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے شعیب صفدر صاحب کی ہدائت پر آج بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر مندرجہ ذیل تبصرہ کیا ۔
ذی شعور شخص فیصلہ کرنے سے پہلے متعلقہ علم رکھنے والے لوگوں سے ایک مطالعاتی سروے کراتا ہے اور اس سروے کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران ایسا نہیں کرتے بالخصوص ملٹری ڈکٹیٹر اپنے آپ کو عقل کل اور ہرفن مولا سمجھتے ہیں اور جنرل پرویز مشرف تو تمام حدود پھلانگ چکے ہیں ۔ جو وعدے انہوں نے نواز شریف کی جمہوری حکومت کو ختم کر نے کے بعد کئے تھے چھ سال گذرنے کے بعد بھی ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا ۔ البتہ جو ادارے پہلے ٹھیک کام کر رہے تھے ان کو بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ جہاں تک دینی مدرسوں کا تعلق ہے میں پچھلے تیس سالوں میں معلومات کی خاطر اسلام آباد ۔ راولپنڈی ۔ لاہور اور اکوڑہ خٹک میں کچھ مدرسوں میں جا چکا ہوں ۔ وہاں صرف اور صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے ۔ دہشت گردی کی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے وہاں فرقہ واریت کی بھی تعلیم نہیں دی جاتی ۔ فرقہ واریت ان نام نہاد مشائخ میں سے کچھ پھیلاتے ہیں جو حکومت کے خرچ پر عیش کر رہے ہیں ۔
افغانستان میں روسیوں کے خلاف جنگ کیلئے امریکی حکومت نے مدرسوں کے باہر خاص مراکز میں عسکری تربیت کا انتظام کیا تھا جس پر ہر سال امریکہ کئی سو ملین ڈالر خرچ کرتا رہا ۔ ان مراکز میں تربیت پانے والے زیادہ تر لوگ پاکستانی نہیں تھے ۔ ان کے لیڈروں کو امریکی حکومت کے مہمانوں کے طور پر امریکہ لیجایا جاتا تھا اور ان سے وہاں تقریریں بھی کروائی جاتی تھیں ۔ اس سارے کھیل میں پاکستانی مدرسوں کا کوئی رول نہ تھا ۔ اب بھی کسی جنگ یا دھماکے میں پاکستانی مدرسوں کا کوئی کردار نہیں ۔ پرویزمشرف اپنی ڈکٹیٹرشپ کو قائم رکھنے کے لئے اسلام کے خلاف امریکی اور برطانوی حکومتوں کے اشاروں پر ناچ رہا ہے ۔ اگر امریکی اور برطانوی عوام کو حقیقت کا علم ہو جائے تو مجھے یقین ہے وہ اس کی حمائت نہیں کریں گے ۔

4 Comments:

At 8/01/2005 03:35:00 PM, Blogger Shoiab Safdar Ghumman said...

تبصرہ تو آپ نے خوب کیا ہےسر

 
At 8/01/2005 04:33:00 PM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

شعیب صفدر صاحب ۔ یوں کہیئے نا کہ آپ کے دل کی بات کہی ہے ۔
^_^

 
At 8/02/2005 02:53:00 AM, Blogger Danial said...

میں دینی مدارس پر پابندیوں کے خلاف ہوں۔ ہمارے ملک میں پہلے ہی تعلیم کی کمی ہے اور مدارس اس ضمن میں بڑے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ میں اس بات کے بھی خلاف ہوں کہ مساجد حکومت کنٹرول کرے اور اپنی مرضی کے خطبات نشر کروائے۔ پاکستان کے مدارس میں یقینا دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ لیکن وہاں کس طرح کی تعلیم دی جاتی ہے؟ کیا یہ بات صحیح نہیں کہ ہمارے مدارس کے طلباء اسامہ بن لادن کو ہیرو سمجھتے ہیں؟ اور ایسا کیوں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہونے والی تحقیقات کی تان پاکستان پر آکر ٹوٹتی ہے؟ کیا یہ بات بھی صحیح نہیں کہ چیچنیا، کشمیر اور افغانستان میں جاری جہاد کا پاکستانی مدارس سے کچھ تعلق ہے؟ کیا مدارس کے نظام میں بہتری کی گنجائش ہے؟ اور اگر ہے تو وہ بہتری کس قسم کی ہونی چاہئیے؟ اور ایک اور اہم سوال پاکستان کے عوام کو دہشت گردی اور جہاد میں کس طرح فرق کرنا چاہئیے؟

 
At 8/02/2005 11:19:00 AM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

دانیال صاحب آپ نے باکل ٹھیک کہا ہے کہ مدرسوں اور مساجد پر پابندی نہیں ہونا چاہیئے اور نہ یہ حکومت کے کنٹرول میں ہونا چاہیئں ۔ آپ کے باقی سوالات ایک جامع جواب کے حقدار ہیں ۔ انشاءاللہ جلد جواب لکھوں گا ۔

 

Post a Comment

<< Home