Thursday, March 02, 2006

انتہاء پسند کون ؟

مغربی ملکوں میں آج کی دنیا کے تمام تر بُحرانوں کا ذمہ دار مسلمانوں کی بنیاد پرستی کو ٹھیرایا جا رہا ہے ۔ اِسرائیل کی اِنتہاء پسندی سے قطعِ نظر آجکل نام نہاد سَیکُولرزِم کے بُلند بانگ دعوے کرنے والے بھی تعصُب کی اِنتہا کو پہنچ چکے ہیں ۔ دوسری طرف اگر امریکہ میں عیسائیت کا بغور مطالع کیا جائے تو بنیادپرست عیسائیت ایک طاقتور اِنتہاء پسند تحریک نظر آتی ہے جو دنیا میں امن کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے ۔ پچھلے چند سالوں سے امریکہ بتدریج ایک اِنتہاء پسند عیسائی ریاست بنتا جا رہا ہے اور اب تو امریکہ کے سیاسی معاملات کو بھی عیسائیت کی آنکھ سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ اِس ماحول نے بُنیادپرست عیسائیت اور اِنتہاء پسندی کو اُبھارا ہے اور ساری دنیا پر چھا جانے کی تحریک کو جنم دیا ہے ۔ امریکہ میں عیسائی بنیادپرستی اور اِنتہاء پسندی کا اِتنا غلبہ آج سے پہلے کبھی نہ تھا ۔ نعیم الحق صاحب نے (انگریزی میں) صورتِ حال کا عمدہ تجزیہ کیا ہے ۔ خلاصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے اور اگر مکمل مضمون پڑھنا چاہیں تو یہاں کلک کیجئے

5 Comments:

At 3/02/2006 06:36:00 PM, Blogger Attiq-ur-Rehman said...

السلام علیکم ۔ مغرب نے اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا کو اپنی من چاہی تصویر دکھائی۔ لیکن ہم ابھی تک یہ ہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ کس کو شہید کہنا ہے اور کس کو ہلاک۔ کون مجاہد ہے اورکون دہشت گرد !!!!

 
At 3/03/2006 10:30:00 AM, Blogger Hypocrisy Thy Name said...

عتیق الرّحمٰن صاحب
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات ہی اُلٹ ہیں ۔ ہم پتّے کو پکڑ کر درخت اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم خود محنت کر کے آگے بڑھنے کی بجائے آگے بڑھنے والے کی ٹانگ پکڑ کر اُسے پیچھے کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنی حکمرانی مضبوط کرنے کے لئے عوام کے پاس جانے کی بجائے ہم غیر مرئی طاقتوں کے پاس جاتے ہیں ۔ ووٹ دیتے وقت ہم اپنا دماغ سُلا دیتے ہیں جسے ہمارے ووٹوں سے چُنا جانے والا لیڈر ہمیں ٹھوکریں مار کر جگاتا ہے تو پھر ہم اپنے چُنے ہوئے لیڈر کو گالیاں دیتے ہیں ۔ مگر اگلے اِنتخاب میں ہم پھر اپنے دماغ کو سُلا دیتے ہیں اور وہی عمل دُہراتے ہیں ۔
ایسا اسلئے ہے کہ ہم نے اِسلام کو صرف مسجد میں بند کر دیا ہے۔ اِسے اپنے گھر ۔ کاروبار یا دفتر میں نہیں گھُسنے دیتے ۔ ورنہ واضح ہے کہ کون شہید ہے کون دہشت گرد ۔

 
At 3/03/2006 10:46:00 AM, Blogger iabhopal said...

عتیق الرّحمٰن صاحب
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات ہی اُلٹ ہیں ۔ ہم پتّے کو پکڑ کر درخت اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم خود محنت کر کے آگے بڑھنے کی بجائے آگے بڑھنے والے کی ٹانگ پکڑ کر اُسے پیچھے کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنی حکمرانی مضبوط کرنے کے لئے عوام کے پاس جانے کی بجائے ہم غیر مرئی طاقتوں کے پاس جاتے ہیں ۔ ووٹ دیتے وقت ہم اپنا دماغ سُلا دیتے ہیں جسے ہمارے ووٹوں سے چُنا جانے والا لیڈر ہمیں ٹھوکریں مار کر جگاتا ہے تو پھر ہم اپنے چُنے ہوئے لیڈر کو گالیاں دیتے ہیں ۔ مگر اگلے اِنتخاب میں ہم پھر اپنے دماغ کو سُلا دیتے ہیں اور وہی عمل دُہراتے ہیں ۔
ایسا اسلئے ہے کہ ہم نے اِسلام کو صرف مسجد میں بند کر دیا ہے۔ اِسے اپنے گھر ۔ کاروبار یا دفتر میں نہیں ایسا اسلئے ہے کہ ہم نے اِسلام کو صرف مسجد میں بند کر دیا ہے۔ اِسے اپنے گھر ۔ کاروبار یا دفتر میں نہیں گھُسنے دیتے ۔ ورنہ واضح ہے کہ کون مجاہد ہے اور کون دہشت گرد

 
At 3/05/2006 06:02:00 PM, Blogger Attiq-ur-Rehman said...

بجا ارشاد ! لیکن اسلام ہمارے گھر اور دفتر تک کیوں نہ پہنچ سکا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم صرف زبانی نعرے لگاتے ہیں کہ یہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ضابطہ حیات کیا ہوتا ہے اس پر شاید ہم نے کبھی غور نہیں کیا۔

 
At 3/06/2006 09:43:00 AM, Blogger iabhopal said...

عتیق الرّحمٰن صاحب
ضابطہ حیات کیا ہوتا ہے یہ تو امریکہ اوریورپ کے آدھے لوگوں کو علم نہیں ہو گا۔ ہماری تو یہ حالت ہے کے ہم اسلئے مسلمان ہیں کہ ہم مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوئے۔ ھماری بھاری اکثریت نے قرآن شریف کو سمجھ کر نہیں پڑھا ۔ تیس سے چالیس فیصد نے پڑھا ہی نہیں اور لگ بھگ بیس فیصد لوگوں کو نماز نہیں آتی۔ ان میں سے کُچھ داڑھی بطور سنت رکھ لیتے ہیں ۔ ہماری اکثریت کیلئے اسلام محظ ایک نعرہ ہے ۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلائے ۔ آمین ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home