Tuesday, February 07, 2006

آزادیءِ اِظہارِ خیال ۔ ہے کس ملک میں ؟

ایک ماہ سے اخبارات ۔ ویب سائٹس اور بلاگز پر یورپ میں اُٹھنے والے طوفانِ بدتمیزی کی خبریں اور مضامین بغور پڑھتا رہا ۔ جمہوریّت اور انسانیّت کا ڈھنڈورا پیٹنے والی فرنگی دنیا میں کتنی ڈِھٹائی سے اپنے غلیظ کردار کو اِظہارِ خیال کی آزادی سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ چند ماہ قبل ایک برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ اِرونگ کو آسٹریا میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ اس کا جُرم یہ ہے کہ اس نے لیکچر دیا تھا جس میں اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کی نازیوں کے ہاتھوں گیس چیمبرز کے ذریعہ موت کے واقعہ کے متعلق کہا تھا کہ مرنے والے یہودیوں کی تعداد مبالغہ آمیز ہے ۔ ملاحظہ ہو میرے دوسرے بلاگ پر میری26 نومبر 2005 کی تحریر یورپ کے حکمران ایک اخبار کے کارٹونسٹ کو ایک بِلّین اور بیس مِلّین سے زائد مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کی آزادی تو دیتے ہیں مگر ایک تاریخ دان کو کسی بات کو غلط سمجھنے کی بھی اجازت نہیں دیتے ۔ کیا یہی ہے مغربی جمہوریت ؟ کیا اسی کا نام آزادیءِ اِظہارِ خیال ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ فرنگیوں کے لئے ہر وہ عمل جو اسلام دشمن ہو اور ہر وہ بات جس سے اسلام ۔ پیغمبرِ اسلام یا مسلمانوں کی تضحیک ہوتی ہو یا اُنہیں تکلیف پہنچتی ہو وہ تو عین جمہوریّت ۔ آزادیءِ اظہار رائے اور روشن خیالی ہے جبکہ ان اسلام دشمنوں کے ظُلم و سِتم کے خلاف قدم اُٹھانا یا احتجاج کرنا دہشت گردی اور انتہا پسندی ہے ۔ جو لوگ "جس کی لاٹھی اُس کی بھینس" میں یقین رکھتے ہیں اُن کا علاج صرف لاٹھی ہی سے ہو سکتا ہے ۔ افسوس تو یہ ہے کہ مسلمان اپنے پیدا کرنے والے سے غافل اور دشمنوں کے غلام بن کر اپنی لاٹھی کھو چکے ہیں ۔ مشہور صحافی رابرٹ فِسک لکھتے ہیں I happen to remember how more than a decade ago, a film called the Last Temptation of Christ showed Jesus making love to a woman. In Paris, someone set fire to the cinema showing the movie, killing a young Frenchman. I also happen to remember a major US university which invited me to give a lecture three years ago. I did. It was entitled. “September 11, 2001: ask who did it but, for God’s sake, don’t ask why.” When I arrived, I found that the university authorities had deleted the phrase “for God’s sake” because “we didn’t want to offend certain sensibilities. Ah-ha, so we have ‘sensibilities’ too. I also enjoyed the pompous claims of European statesmen that they cannot control free speech or newspapers. This is also nonsense. Had that cartoon of the Prophet shown instead a chief rabbi with a bomb-shaped hat, we would have had “anti-Semitism” screamed into our ears Furthermore, in some European nations — France is one, Germany and Austria are among the others — it is forbidden by law to deny acts of genocide. In France, for example, it is illegal to say that the Jewish Holocaust or the Armenian Holocaust did not happen

2 Comments:

At 2/07/2006 08:48:00 PM, Blogger urdudaaN said...

آپ کا ردّ ِ عمل بالکل بجا ھے۔

علّامہ مرحوم نے کہا تھا؛
بہت نیچے سروں میں ھے ابھی یورپ کا واویلہ

سچ ھے ان کمینوں نے اخلاق کی پستی و گہرائی کو چھو لیا ھے۔
دوغلے پن کی اس سی خراب شکل کیا ھوسکتی ھے؟ دنیا میں اصلی حیوان تو اب گھوم رھے ھیں۔

 
At 2/08/2006 10:57:00 AM, Blogger iabhopal said...

اُردودان صاحب
تبصرہ کا شکریہ ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ حضرت نوح علیہ السّلام سے پہلے کی تاریخ تو معلوم نہیں ۔ حضرت نوح علیہ السّلام سے لے کر آج تک منکرِ دین یہی کچھ کرتے آ رہے ہیں ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home