Thursday, January 26, 2006

پاکستان بلندیوں پر

علالت کے دوران خبر ملی کہ اپنے ملک پاکستان میں ترقی کا معیار سطح سمندر سے 602 فٹ بلند ہو گیا ہے اور اِس پر صرف ساڑھے بائیس کروڑ روپیہ خرچ ہوا ۔ اِس ترقّی پر مُہر ہمارے بادشاہ سلامت نے اپنے دستِ مبارک سے لگائی ۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ شاہجہاں خوبصورت عمارتیں ہی بناتا رہا اور ملک و قوم کی ترقی کی طرف کوئی توجہ نہ دی ؟ شاہجہاں کی رعایا تو خوشحال تھی ۔ اُس کے زمانہ میں نہ تو 40 فیصد سے زیادہ لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے اور نہ زلزلہ سے 30 لاکھ انسان بے گھر ہوئے تھے ۔ اگر ساڑھے بائیس کروڑ روپیہ صرف کراچی میں پینے کے صاف پانی کے منصوبہ پر خرچ کیا جاتا تو وہاں کے لوگ کئی بیماریوں سے بچ جاتے ۔ اگر کراچی پورٹ ٹرسٹ پر خرچ کیا جاتا تو ادارہ فعال بن جاتا ۔ آئیے سب مل کر اللہ سُبحَانُہُ و تَعَالَی کے حضُور میں التجا کریں کہ ہمارے حکمرانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے کہ وہ عیاشیاں چھوڑ کر اپنی عاقبت سنوارنے کا کچھ سامان کریں ۔

5 Comments:

At 1/26/2006 04:09:00 PM, Blogger میرا پاکستان said...

ہم نے بہت پہلے کہیں پڑھا تھا کہ مطلق العنان حکمران لوگوں کی فلاح جیسے مشکل طریقے اپنانے کی بجاۓ اس طرح کے آسان چونچلے کرکے قوم کو بےوقوف بنانے کی پہلے بھی کوشش کرتے رہے ہیں۔
کبھی انہوں نے تاج محل بنایا، کبھی بادشاہی مسجد، کبھی فیصل مسجد، کبھی کعبے کی تزئین و آرائش اور اب فوارہ۔ اسی عیاشي اور خود غرضی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

 
At 1/27/2006 09:59:00 AM, Anonymous Ejaz Asi said...

umm Ap ney aaqbat ki baat ki. I mean seriously you pray that as well. Yes, the first part of the prayer is nice and that's what I do as well esp. for Sheikh rasheed and other Ch. Brothers apprentices, you know. As for Musharraf, he's not just Musharraf (note the irony here) he's a general, and not just a general but one of a kind and us per turra-e-imtiaz yeh k sadar-e-pakistan bhee wohi hein. You can call it Qudrat Ki Sitam Zareefi. I seriously pity a man who's burdened with others sins when he can't deal with his own. I truly, madly and deeply regret this sorry bloody fountain who's good for nothing. I mean, seriously, no one can reach there to see it except naswaar-khor truck walas who just happen to pass by that place.
Our abbu used to tell us story of emperors who competed to see their own city to be the best. One made so big buildings and nice roads and other scientific advancement he could possibly give to his city. The second made such beautiful heck out of his city by planting wonderful trees and gardens and what not. But it was the third emperor/king who won. He made his objects happy by listening to their needs and concerns. It's those objects, he argued, if happy, can make his city wonderful or look ugly despite everything else I could do.
*sigh*
This kid's gonna die silly. (sorry my sense of humor and a decent vocabulary of english is dying away)

 
At 1/27/2006 11:49:00 AM, Blogger iabhopal said...

میرا پاکستان والے صاحب
اور اعجاز آسی صاحب
آپ کے تبصرہ کا شکریہ ۔ آپ دونوں نے ٹھیک فرمایا ہے لیکن یہ کب تک یونہی چلے گا ؟

 
At 2/01/2006 03:54:00 AM, Anonymous Misha said...

Why blame others when we (Kashmiris) can't fix our stuff. Sir there are thousands n thousands of Kashmiri Expat in England and they all are in good shape. Noone knows how many rich Kashmiris are in the world but I guess in millions who are living comfortable lives but they could never think to do this what Gujrati's are doing? See for yourself

http://news.bbc.co.uk/1/hi/world/south_asia/4662402.stm

 
At 2/01/2006 11:45:00 AM, Blogger iabhopal said...

مِشہ صاحبہ
آپ کی بتائی ہوئی ویب سائٹ دیکھی ۔ آپ کے خیال سے اتفاق کرتا ہوں ۔ میں کشمیری ہوں مگر اللہ کے فضل سے ویسا نہیں جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے اور نہ ہی ہمارے خاندان میں کوئی مِلِنیئر ہے ۔ اللہ کے کرم سے میں ۔ میرے بہن بھائی اور میرے اور میرے بہن بھائیوں کے بچے اپنی بساط سے بہت زیادہ متاءثرینِ زلزلہ کی اعانت کر رہے ہیں ۔ ہم مشہوری کے لئے نہیں بلکہ اپنے پیدا کرنے والے کی خوشنودی کے لئے کام کرتے ہیں ۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ ہماری یہ ادنٰی کوششیں قبول فرمائے اور ہم سے اور بھی زیادہ اچھے کام لے ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home