Saturday, January 28, 2006

کِشتی

میری آٹھویں جماعت کے زمانہ کی ڈائری سے (55 سال قبل لکھی ہوئی) * کِشتیاں سب کی کِنارے پہ پہنچ جاتی ہیں ناخدا جِن کا نہ ہو ۔ اُن کا خُدا ہوتا ہے * میری کِشتی خُدا کے آسرے پہ چھوڑ کے ہٹ جا میری کِشتی اگر اے ناخدا تکلیف دیتی ہے

6 Comments:

At 1/28/2006 10:56:00 PM, Blogger Shoiab Safdar Ghumman said...

اچھے شعر ہیں

 
At 1/29/2006 03:21:00 PM, Blogger خاور کھوکھر said...

جناب اجمل صاحب آپ اى ميل كر كے بتا ديتے ميرے خاندان كا كوئى نه كوئى آپ كو لينے اجاتا ـ
ويسے ميرا گاؤں اسلاماباد سے سيالكوٹ جاتے هوئے راستے سے هٹ كر هے ـ
ميرے گاؤں كا نام هے تلونڈى موسے خاں
http://ur.wikipedia.org/wiki/تلونڈى_موسےخان

 
At 1/30/2006 06:37:00 PM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

شعیب صفدر صاحب
شکریہ مگر میں نے نہیں لکھے

خاور صاحب
آپ کا بہت شکریہ ۔ ہم سیالکوٹ براستہ گوجرانوالہ گۓ تھے

 
At 1/31/2006 01:10:00 AM, Blogger Asma said...

ناخدا جِن کا نہ ہو ۔ اُن کا خُدا ہوتا ہے

یہ تو ہے

 
At 1/31/2006 01:11:00 AM, Blogger Asma said...

ناخدا جِن کا نہ ہو ۔ اُن کا خُدا ہوتا ہے

یہ تو ہے

 
At 1/31/2006 09:44:00 AM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

اسماء جی
تُسی سچ آکھیا اے ۔ اَے تے فیر ہے

 

Post a Comment

<< Home