Thursday, February 09, 2006

بڑائی کِس میں ہے ؟

بڑائی اِس میں ہے کہ * آپ نے کتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا نہ کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے * آپ نے کتنے لوگوں کو سواری مہیّا کی نہ کہ آپ کے پاس کتنی بڑی کار ہے * آپ کتنی دولت دوسروں پر خرچ کرتے ہیں نہ کہ آپ کے پاس کتنی دولت ہے * آپ کو کتنے لوگ دوست جانتے ہیں نہ کہ کتنوں کو آپ دوست سمجھتے ہیں * آپ محلہ داروں سے کتنا اچھا سلوک کرتے ہیں نہ کہ کتنے عالیشان محلہ میں رہتے ہیں

6 Comments:

At 2/09/2006 10:14:00 PM, Blogger Shoiab Safdar Ghumman said...

خوب

 
At 2/10/2006 09:13:00 AM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

شعیب صفدر صاحب
شکریہ ۔

 
At 2/10/2006 09:18:00 AM, Anonymous Anonymous said...

Assalam o alaykum w.w.!
in ur latest post about "baraayi"
well thats a nie one ... comments were just not opening so mailing u ....
in baraayi no "hay " comes ... its written as
بڑائی
بڑھائی تو جیسے حکومت نے تی کی قیمت بڑھائی ایسے استعمال ہوتا ہے
wassalam

 
At 2/10/2006 09:31:00 AM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

اسماء صاحبہ
غَلَطی بتانے کا شکریہ ۔
میں نے آپ کا تبصرہ آپ ہی کے نام سے پوسٹ کردیا ہے ۔ آپ کو ایک دو ماہ سے شکائت ہے کہ میرا بلاگ یا کمنٹ باکس نہیں کھُلتا ۔ میرا خیال ہے آپ اپنے سِرے پر نقص تلاش کریں کیونکہ یہ شکائت کِسی اور کو نہیں ہے ۔

 
At 2/10/2006 12:36:00 PM, Anonymous Anonymous said...

اجمل صاحب ایسی زبردست باتیں کدھر سے ذھن میں آ تی ھیں جناب؟

 
At 2/10/2006 02:46:00 PM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

مدّاح صاحب
کیا آپ سب کے مدّاح ہیں ؟
آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے ۔
سب کچھ دِیا ہے اللہ نے مجھ کو
میری تو کوئے بھی چیز نہیں ہے
یہ تو کرم ہے میرے اللہ کا
مجھ میں تو ایسی کوئے بات نہیں ہے

اِس کے بعد یہ میرےسکول اور گیارہویں بارہویں کے اساتذہ کی محنت کا نتیجہ ہے

 

Post a Comment

<< Home