Wednesday, June 08, 2005

آج کے دن ایک اعتراف

آج آٹھ جون ہے یعنی میری بیٹی کا یوم پیدائش ہے۔ میری ایک بیٹی ہے۔ ویسے تو سب ہی ایک ہیں یعنی میری ایک بیوی ہے۔ ایک بڑا بیٹا ہے زکریا اور ایک چھوٹا بیٹا ہے فوزی ۔ ٹھیک ہے نا ۔ ایک ایک ہی ہوئے نا ؟ (ہا ہا ہا) میری بیٹی کا نام ہے منیرہ ۔ یہ نام میری امی (اللہ غریق رحمت کرے) نے تجویز کیا تھا۔ میری بیٹی مجھے بہت ہی پیاری ہے۔ اور بیٹی بھی مجھے بہت پیار کرتی ہے۔ ایک مسئلہ ہے جو کئی سالوں سے حل نہیں ہو سکا وہ یہ کہ میں کہتا ہوں کہ میں زیادہ پیار کرتا ہوں اور بیٹی کہتی ہے میں زیادہ پیار کرتی ہوں۔ بعض اوقات اس معاملہ پر ہم میں تکرار ہو جاتی ہے مگر جلد ہی ہم دونوں ہنسنے لگ جاتے ہیں اور صلح ہو جاتی ہے۔ پرانی بات ہے ایک دفعہ بیٹی کا کوئی مطالبہ مجھے معقول نہ لگا میں نے کوئی رد عمل نہ دکھایا اور خاموش ہو گیا۔ بیٹی نے سمجھا کہ میں ناراض ہو گیا ہوں اور رو رو کے اپنا برا حال کر لیا۔ میں جب اس کے کمرہ میں گیا تو اسے دیکھ کر حقّا بقّا رہ گیا۔ اس کی ہچکی بندھ چکی تھی۔ میں نے بیٹی کو پچکارا اور بڑی مشکل سے باور کرایا کہ میں اس سے ناراض نہیں۔ جنوری میں اور میری بیگم ۔ بیٹی کو کراچی میں سیٹ کرنے گئے۔ چار دن بعد میں سخت بیمار ہو گیا۔ کچھ وقت ہسپتال میں بھی گذارنا پڑا۔ ایک ماہ تک کافی تکلیف رہی۔ ذرا طبیعت سنبھلی تو میں بیٹی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ تو آدھی بھی نہ رہی تھی۔ اب میں سوچتا ہوں کہ والدین تو اولاد سے پیار کرتے ہی ہیں مگر ایسی بیٹیاں بہت کم ہوں گی جو اپنے والدین سے اتنا والہانہ پیار کریں۔ چنانچہ میں ہار گیا اور بیٹی جیت گئی۔ ارے ارررررے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ یہ بھی میری ہی جیت ہے کیونکہ بچوں کی جیت والدین کی ہی جیت ہوتی ہے۔

7 Comments:

At 6/10/2005 06:47:00 AM, Blogger Danial said...

ایک عرصہ دراز بعد کسی بلاگ پر ایک اتنی سادہ دلچسپ اور اثر انگیز تحریر پڑھی ہے۔ میں اس بات کو بالکل صحیح نہیں مانتا مگر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیاں اکثر اپنے والد سے زیادہ پیار کرتی ہیں۔

 
At 6/10/2005 07:49:00 AM, Blogger iabhopal said...

دانیال صاحب۔ بات ماننے یا نہ ماننے کی نہیں۔ بات اصل اور نقل کی ہے۔ اصل چونکہ اصل ہی ہوتا ہے تو اس میں نہ تو رنگ بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ اس پر شیرینی چڑھانے کی اور یہ دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ اصل کو نہ پہچاننے والوں کو حقیقتیں کڑوی اور بدشکل لگتی ہیں۔
مائیں ان کے بعد بیویاں اور پھر بیٹیاں محبت ہی محبت ہوتی ہیں۔ ان کی طرف تھوڑی سی توجہ ان کو اور بھی فریفتہ کر دیتی ہے۔ بیٹی کا ماں کی نسبت باپ کی طرف زیادہ جھکاؤ اس صورت میں ہوتا ہے کہ باپ بیٹی کی ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے۔ جو بد قسمت باپ بیٹی کو بوجھ یا بد شگونی سمجھتے ہیں اللہ سبحانہ و تعالی ان کی بیٹیوں کے دل میں باپ کے لئے ماں کی نسبت زیادہ محبت نہیں ڈالتا۔

 
At 6/14/2005 05:16:00 AM, Blogger Danial said...

بجا فرمایا

 
At 6/14/2005 07:14:00 AM, Blogger SHAPER said...

girls/woman r most beautiful gift of God... doesn't matter whts she is.... hmm mother, wife, daughter and ya probably girl firends .... lol

 
At 6/14/2005 07:14:00 AM, Blogger SHAPER said...

girls/woman r most beautiful gift of God... doesn't matter whts she is.... hmm mother, wife, daughter and ya probably girl firends .... lol

 
At 6/14/2005 07:24:00 AM, Blogger iabhopal said...

Mr Shabbir, I do not believe in having a girl friend of the type men have in the West. Most of the girl friends do not become wives and many marriages with girl friends end in separation. What is the use then ?

 
At 6/14/2005 04:27:00 PM, Blogger SHAPER said...

Ajmal .... i was kidding. i know haveing a gf is not our culture and Islam is not allow us to have a girl friend and he has a solid reasons for it

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home