Tuesday, May 24, 2005

برا کون ؟ قانون یا قانون نافذ کرنے والے ؟

روشن خیال حکومت کے دور میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ابھی ایک گہرے زخم کا علاچ بھی صحیح طرح شروع نہیں ہوا ہوتا کہ ایک اور گہرا زخم لگا دیا جاتا ہے۔ ابھی چند دن کی بات ہے کہ سیالکوٹ شہر کے تھانہ میں قانون کے محافظوں نے ایک سترہ سالہ طالبہء علم کی عصمت لوٹی تھی۔ اور الٹا اس پر برے چال چلن کا مقدمہ بھی بنا دیا تھا۔ اب 17 مئی کو رات ساڑھے آٹھ بجے طاہر اور بلاّ اپنی رشتہ دار خواتین 32 سالہ صائمہ اور 15 سالہ سائرہ کو فیض آباد میں شیخوپورہ جانے والی بس کے اڈا پر چھوڑنے جا رہے تھے کہ فیض آباد فلائی اوور کے پاس پولیس نے روک کر ان کی شناخت یعنی ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ کا ثبوت مانگا۔ پھر ان کو قریبی تھانہ لے جا کر سب انسپکٹر اقبال شاہ کے حوالے کیا جس نے ان کے بیان لینے کے بعد انہیں کمرہ میں بند کرنے کا حکم دیا۔ پولیس والوں نے انہیں سیکس سکینڈل میں ملوّث کرنے کی دھمکی دی اور باعزت چھوڑنے کے عوض دو لاکھ روپے رشوت مانگی۔ نیز ان کے باس جو کچھ تھا (گھڑیاں۔ موبائل فون۔پیسے۔ اے ٹی ایم کارڈ) سب کچھ چھین لیا۔ پھر عورتوں سے ٹیلیفون کروا کر ان کے ایک رشتہ دار احمد ٹونی کو بلوایا اور اپنا دو لاکھ روپے کا مطالبہ دہرایا۔ ٹونی نے معذوری کا اظہار کیا تو دھمکیاں دیکر اے ٹی ایم پن کوڈ معلوم کیا اور ٹونی کو پولیس کے ساتھ بھیجا کہ اے ٹی ایم سے زیادہ سے زیادہ پیسے نکال کر لائیں۔ وہ الائیڈ بنک سے رسید نمبر 00298099 کے مطابق بیس ہزار روپے اور حبیب بنک سے رسید نمبر 00364248 کے مطابق پانچ ہزار روپے لے کر آئے۔ ان کی عدم موجودگی میں پولیس آفیسر نے ایک پولیس مین کے ذریعہ سائرہ کو اپنے کمرہ میں بلایا اور زبردستی اس کی عزت لوٹ لی۔ ٹونی نے واپس آ کر پچیس ہزار روپے دئیے تو طاہر اور بلّے کواگلی صبح 4 بجے کے قریب رہا کر دیا مگر خواتین کو صبح 6 بجے تک اپنے پاس رکھا۔ جب خواتین کو رہا کیا گیا تو سائرہ کی حالت بہت خراب تھی۔ ٹونی خواتین کو اپنے گھر لے گیا مگر پھر سائرہ کو ہسپتال لے جانا پڑا جہاں سائرہ 30 گھینٹے زیر علاج رہی۔ ٹونی نے پولیس کے ڈر سے ہسپتال والوں کو اصل صورت حال نہ بتائی۔

0 Comments:

Post a Comment

<< Home