Thursday, September 01, 2005

جل کے دل خاک ہوا آنکھ سے رویا نہ گیا

نگری میری کب تک یونہی برباد رہے گی دنیا ۔ دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی چاروں طرف چھایا ہے گھٹاٹوپ اندھیرا کوئی ہے جو بتائے کہ کب ہو گا سویرا کتنی بار روؤں اور کس کس کو روؤں ۔ دو چار ہوں تو نام پتہ لکھوں ۔ یہ تو روز کا معمول بن گیا ہے میرے سینے میں خنجر اور دماغ پر کچوکے لگانے کا ۔ مختاراں ۔ شازیہ ۔ نازش ۔ سونیا ۔ چند اور تو اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کی بپتا کا حال لوگوں تک پہنچ گیا ۔ درجنوں ایسی ہوں گی جن کی کسی کو خبر ہی نہیں ۔ پھر وہ جن کو ایجنسیوں کے لوگ اٹھا کر لے گئے ڈاکٹر آسیہ ۔ نام نہاد خود کش بمبار بہنیں نجانے کتنی اور جن آج تک پتہ نہیں کہاں ہیں اور حکومت کے پالتو عدالتوں میں جھوٹ بولتے ہیں کہ حکومت کے جمعداروں کو ان کی کوئی خبر نہیں ۔ کون جانے ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے ۔ ہر صبح اخبار کھولتے ہوئے ہاتھ تھرتھرا رہے ہوتے ہیں جسم کانپ رہا ہوتا ہے اور دل مالک کائنات سے التجا کر رہا ہوتا ہے یا اللہ آج نہ ہو آج نہ ہو ۔ پھر وہی خبر ۔ ۔ ۔ حلق میں جیسے گولہ پھنس جاتا ہے ۔ سر پکڑ کر رہ جاتا ہوں ۔ میرے مولا یہ ظلم کب ختم ہو گا ۔ آزادی ملنے پر ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں دشمنوں نے لوٹیں ۔ ہم نے آزادی ملنے کی قیمت سمجھ کر برداشت کیا ۔ مقبوضہ کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان اور عراق میں ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزت لوٹنے والے بھی ہمارے دشمن ہیں اور ہم اتنے کمزور ہیں کہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں اب آزادی انسان نما درندوں کو مل گئی ہے ۔ اپنے ملک ہی میں اپنے کہلانے والے اپنی ہی بہنوں بیٹیوں کی عزت لوٹ رہے ہیں ۔ ہمارے محافظ جن کی حفاظت پر مامور ہیں ان ہی کی بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لوٹ رہے ہیں اور ہمارے روشن خیال حکمران مدہوش پڑے ہیں ۔ بہت ہوا تو انکوئری کا حکم دیے دیا اور بس ۔ آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ۔ ان روشن خیالوں کو بیرون ملک دوروں ۔ مساجد کے اماموں کو گرفتار کرنے ۔ دینی مدرسوں کو رجسٹر کرنے اور ناچ گانوں اور میلوں ٹھیلوں سے فرصت ہو تو شائد اپنے گرد نظر دوڑائیں ۔ رہی عدالتیں تو ان میں فیصلہ کرنے والوں کے نہ دل ہیں نہ آنکھیں ۔ اے خاصہء خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

7 Comments:

At 9/01/2005 09:56:00 AM, Blogger Harris - حارث said...

This comment has been removed by a blog administrator.

 
At 9/01/2005 10:00:00 AM, Blogger Harris - حارث said...

First of all sorry for posting a link which is related to your previous post, but i have to follow up ur blog, but you post on a regular basis, and I cant browse your blog daily.
_____________________________________

░░THE COMMENT░░
¯¯¯¯¯¯¯¯¯¯¯¯¯¯¯
»»The content of this comment may contain sexual information, and links, so underage readers please skip this section««


►The post was about sexual education and pornography. I am a regular reader of bbc.co.uk, and I consider it as a dependable and sensible news source.
But this trust shook when some time ago, perhaps two months ago, i was reading some news story and i saw a link to bbc teens, i was nineteen at that time (recently turned twenty). I followed the bbc teen link, and it showed two categories, Girls and lads.
I opened both links in firefox's new tabs (quick browsing so doesn't matter to have a peek into both of them.
I was checking the content on the main pages there. Everything was okay but I was shocked, really shocked, when I saw a link some what like this on the girls page:

A to Z of life

And similar thing on the Lads page:
A to Z of life

If you browse these links you'll get what I want to say, I dont want to mention details here.
I wanted to post a blog entry on this but I could not muster up courage to take that big step because I have many readers who can take the post on the wrong side, in simple words this posting this kind of stuff just makes no sense for the simple pakistani people.

I considered British people as a sensible nation, but the content on the bbc site and open invitation of having sex and other sex education and real stories links, shook my the trust I had over them. And now I consider American and British cultre to be the same with just minor differences.

Our present government is no doubt american/jewish tool, so they can do anything to change our islamic culture.
Posting questions like that is just like fondling our kids, so that their sex desire and sex drive arise. Causing ill nation and culture in the future.
In Europe and America, having sex at adult age is considered as a new experience and legal, no one, even the parents, can stop their son or daughter having it.
The rest is a story which is known but still unsaid.

-Yours Truly
-Harris bin-Khurram

 
At 9/01/2005 10:06:00 AM, Blogger Harris - حارث said...

السلام علیکم۔۔
اسکے علاوہ اخبارات میں روز روز عصمتیں لوٹی جانے کی خبریں۔۔۔ لگتا ہے ہم پاکستان میں نہیں بلکے کسی ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں کسی کو کوئی سینس نہیں ہے۔

ایں جی اوز بھی دنیا بھر میں پاکستان کا امیج خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ میں تو مختاراں مائی کیس بشمول مختاراں مائی کو ان این جی اوز برائے ہیو من رائٹس کا سٹیجڈ ڈرامہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اب دجل کا دور ہے دھوکے کا۔ جو نظر آئے گا وہ ہوگا نہیں اور جو ہوگا اس کو بہت کم لوگ سمجھتے ہونگے۔

آپ کا مخلص:
حارث بن خرم

[آپ میرے بلاگ پر کمنٹس بکس میں لکھ کر دیکھئے امید ہے اب ڈبے نہیں بنیں گے]۔

 
At 9/01/2005 10:41:00 AM, Blogger iabhopal said...

حارث صاحب
آپ نے جو لکھا ہے ٹھیک لکھا ہے اور میرے علم میں چالیس سال سے ہے ۔ ان لوگوں کے مفکّر اپنے معاشرہ سے تنگ آ چکے ہیں مگر بگڑے افراد کو تو ٹھیک کیا جا سکتا ہے بگڑے معاشرہ کہ نہیں ۔ ہمارے دشمن ہمارے حکمرانوں سمیت ہمارے ہی لوگوں کے ذریعہ ہمارے معاشرہ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور تا حال کامیاب ہو رہے ہیں ۔ وہ دین کو انتہاء پسندی کہہ کر اور ترقی کا جھانسہ دیکر ہمیں غلط راستہ پر لگا رہے ہیں ۔ جہاں ان پیروی نہیں کی گئی وہاں انہوں نے آگ برسائی اور فوجیں اتار دیں ۔ لیکن میرا یقین ہے کہ انشاء اللہ نہ اسلام ان سے ختم ہو پائے گا اور نہ یہ باعمل مسلمانوں کو ختم کر پائیں گے ۔

 
At 9/01/2005 10:55:00 AM, Blogger iabhopal said...

تشہیر پر آپ کا اعتراض صحیح ہے ۔ ہمارے دین میں گناہ تو برا ہے ہی اس کی تشہیر کو بھی اچھا نہیں سمجھا گیا ۔

 
At 9/02/2005 05:39:00 AM, Anonymous زکریا said...

Harris: Shocking! Who knew BBC was so bad! ;-)

You do know that a lot of 19 year olds in Pakistan have had sex (and even kids), right?

I have no idea why and how sex ed and pornography can be confused with each other.

مختاراں کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی ہوئی اور آپ کا خیال ہے کہ اس میں اس کا اپنا قصور ہے؟ گھاس تو نہیں کھا لی آپ نے؟

اور اگر آپ کو پاکستان کے امیج کا اتنا خیال ہے تو خواتین کی عزت کے تحفظ کے لئے کام کریں نہ کہ این جی اوز کو برا کہیں۔

 
At 9/02/2005 11:09:00 AM, Anonymous iftikharajmal said...

Zakaria
"lot of" is an exaggeration. Question is not of sex ed and pornography but the way education in Pakistan is being moulded by our enlightened moderate government. Whatever is being done will harm our nation.
مجتاراں مائی کا کیس ڈرامہ نہیں تھا مگر کچھ این جی اوز نے اپنی مشہوری کی خاطر اسے ڈرامہ بنا دیا تھا ۔ میں اس کے متعلق بہت پہلے تفصیل سے لکھ چکا ہوں ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home