Saturday, June 11, 2005

ہمارا رویّہ ۔ رسم و رواج ۔ حکومت بے بس یا قانون اور اسلامی قوانین

ہمارا رویّہ اول ۔ ہم نے بہت سے رسم و رواج کو اسلام کا نام دے دیا ہوا ہے اور ان رسم رواج کو ہم اللہ اور اس کے آخری نبی سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں جبکہ اسلام رسم و رواج کی مخالفت کرتا ہے اور انسان کو صرف اللہ اور اس کے آخری نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔
دوم ۔ اگر ہم نے کسی دنیاوی موضوع پر لکھنا ہوتا ہے یا کسی دنیاوی معاملہ پر تنقید کرنا ہوتی ہے تو پہلے اس موضوع یا معاملہ پر تحقیق کر کے مصدقہ مواد اکٹھا کرتے ہیں۔ اگر اس موضوع یا معاملہ پر کتاب یا کوئی تحریر موجود ہو تو اس کا مطالعہ بھی کرتے ہیں اور سب کچھ اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے بعد اس موضوع یا معاملہ پر لکھتے یا تنقید کرتے ہیں۔ لیکن اگر موضوع یا معاملہ دین اسلام کا ہو تو ہم پورے دین کو سمجھنے کی کوشش تو کجا۔ قرآن الحکیم کا ترجمہ اور تفسیر کو ایک دفعہ بھی پڑھے بغیر اسلام کے اصولوں پر تقریر اور دل کھول کر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا یہ رویّہ کہاں تک منطقی اور جائز ہے۔ کبھی ہم نے سوچا اس کے متعلق ؟ رسم و رواج ہم نے بہت سے رسم و رواج غیر مسلموں یا اسلام کے دشمنوں سے اپنائے ہوئے ہیں۔ سب پر تھوڑا تھوڑا بھی لکھا جائے تو ایک کتاب بن جائے ۔میں اس وقت صرف کارو کاری کا مختصر ذکر کروں گا۔ کارو کے معنی کالا اور کاری کے معنی کالی ہے یعنی جس مرد یا عورت نے اپنا منہ کالا کیا۔ مطلب ہے بدکاری کی۔ یہ رواج زمانہ قدیم سے بلوچوں میں چلا آ رہا ہے اور جہاں جہاں بلوچ گئے اسے ساتھ لے گئے ۔ چنانچہ آجکل یہ رواج بلوچستان کے علاوہ سندھ۔ جنوبی پنجاب اور سرحد میں بھی پایا جاتا ہے۔انگریزوں نے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئےاس سرداری نظام کو قانونی تحفظ دیا۔ انگریز گورنر البرٹ سینڈیگن نے 1873 میں قبائل کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرتے ہوئے جن قبائلی رسم و رواج کو قانونی تحفظ دیا ان میں ایک کارو کاری بھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ انگریزوں کے بنائے ہوئے باقی قوانین کی طرح یہ قانون بھی ابھی قائم ہو گا۔ ان قبیلوں میں قبیلہ کے سردار مطلق العنان حاکم ہوتے ہیں اور باقی لوگ محکوم غلامی کی حد تک ۔ سردار کے خاندان کا مرد جس عورت کو چاہے اپنی ناجائز خواہشات کا شکار بنائے اس پر کوئی قدغن نہیں مگر عام لوگوں میں کوئی سردار کی مرضی کے بغیر شادی بھی نہیں کر سکتا۔ سردار چاہے کسی کی بیٹی کو کسی اوباش یا بدمعاش سے بیاہ دے یا کسی بڈھے سے جس کے پوتے پوتیاں بھی ہوں۔ انکار کی صورت میں لڑکی کو کاری قرار دے کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ سردار سے باقاعدہ اجازت کے بغیر کسی سے رشتہ کی بات کرنے پر کارو کاری قرار دے کر لڑکا لڑکی دونوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ سردار کا یہ حکم کسی حد تک سردار کے خاندان کی لڑکیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر سردار کے گھرانے کی لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہے تو اسے کسی بہانہ سے قتل کر دیا جاتا۔ اگر وہ لڑکی کسی ماتحت لیکن شریف لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے جبکہ سردار مال یا زمیں کی خاطر اسے کسی بوڑھے یا بچے یا شرابی کبابی سے بیاہنا چاہتا ہے تو اس بےگناہ لڑکے کو کسی غریب بےگناہ لڑکی کے ساتھ کارو کاری قرار دے کر دونوں بے قصوروں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جن کو کارو یا کاری قرارن دیا جائے نہ ان کو غسل دیا جاتا ہے نہ کفن پہنایا جاتا ہے اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے ۔ یہی کھیل ہمارے پیارے ملک کے دوسرے علاقوں میں غیرت کے نام پر کھیلا جاتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس ظلم کی بھینٹ چڑھنے والوں میں 70 لگ بھگ فیصد عورتیں یا لڑکیاں اور 30 فیصد مرد ہوتے ہیں۔ اب آج کے ایک ہی دن میں مختاراں مائی کے متعلق تین انکشافات پڑھئے۔
قانون بے بس یا حکومت اور اسلامی قوانین انشاء اللہ اگلی پوسث میں

0 Comments:

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home