Thursday, August 17, 2006

آرزو اور انتظار

عمرِ اُدھار مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو ميں کٹ گئے دو انتظار ميں ٹھيک ہی کہا تھا بہادر شاہ ظفر نے ۔ زندگی ميں ہے ہی کيا ؟ بس آرزو اور انتظار ۔ ۔ ۔ عورت کی زندگی کے سفر کا خاکہ
ڈيرہ غازی خان سے اپنا ڈيرہ والے منير احمد طاہر صاحب کے شکريہ کے ساتھ بچہ جب ليٹے ہوئےبڑوں کو بيٹھا يا کھڑا ديکھتا ہے تو اُس کے دل ميں اُٹھ بيٹھنے کی آرزو پيدا ہوتی ہے اور وہ سر آُٹھانے کی کوشش بھی کرتا ہے پھر اسی انتظار ميں رہتا ہے کہ کس دن وہ بيٹھنے لگے گا ۔ بيٹھنے لگتا ہے تو چلنے والوں کو ديکھ کر کھڑے ہو کر چلنے کی آرزو کرتا ہے اور اسی انتظار ميں وقت گذارتا ہے ۔ چلنے لگتا ہے تو گھر سے باہر جانے کی آرزو لے بيٹھتا ہے اور انتظار ميں رہتا ہے کہ کب وہ خود دروازہ کھولنے کے قابل ہو گا ۔ باہر جانے کے قابل ہو جاتا ہے تو وہ جوان ہونے کی آرزو ميں دن گذارنے لگتا ہے اور چھُپ چھُپ کر آئينے ميں ديکھتا رہتا ہے کہ کب موچھيں اور داڑھی نکليں گی ۔ تعليم حاصل کرنے کے دوران کوئی اس انتظار ميں رہتا ہے کہ چھُٹياں ہوں تو سير و سياحت کی آرزو پوری کرے ۔ کوئی امتحان کی انتظار ميں رہتا ہے کہ اپنی محنت کا پھَل حاصل کرے ۔ جوان ہو کر ايک ساتھی کی آرزو دل ميں چُٹکياں لينے لگتی ہے اور وہ اس آرزو کی تکميل کا بيقراری سے انتظار کرتا ہے ۔ شادی کے بعد ماں يا باپ بننے کی آرزو جنم ليتی ہے اور وہ اُس خوش آئيند گھڑی کی انتظار ميں دن گننے لگتا ہے ۔ بچہ مل جاتا ہے تو اُسے آرزو ہوتی ہے کہ بچہ پڑھ لکھ کر قابل بن جائے تو اس وقت کی انتظار ميں دن مہينے اور سال گذرنے لگتے ہيں ۔ پھر بچوں کی شادی کی آرزو جکڑ ليتی ہے اور اچھے رشتوں کی انتظار ميں رہتا ہے ۔ ملازمت کرے تو بڑا افسر بننے کی آرزو ہر وقت دامنگير رہتی ہے اور ايک کے بعد دوسری ترقی کی انتظار ميں سال پہ سال گذارتا ہے ۔ تجارت کرے تو زيادہ سے زيادہ امير بننے کی آرزو نہيں چھوڑتی اور اُس دن کی انتظار ميں رہتا ہے جب اُسے زندگی کی تمام آسائشيں حاصل ہو جائيں ۔ بچوں کی شادياں ہو جانے پر بچے اپنے اپنے کاموں ميں مصروف ہو جاتے ہيں اور وہ والديا والدہ سے بوڑھا دادا يا دادی بن جاتا ہے ۔ ايسے ميں وہ ايک آرزو دل ميں بسا ليتا ہے کہ بچے خوش رہيں اور اپنی خوشيوں ميں اُسے بھی شريک کر ليا کريں ۔ اگر اس کا بچہ بہت دُور چلا جائے تو بھی تمام تر حقائق جانتے ہوئے اُس کے ديدار کی آرزو دِل ميں لئے اُس کی انتظار ميں سال يا مہينے نہيں بلکہ دن گنتا رہتا ہے ۔ بہت خوش قسمت ہوتا ہے وہ شخص جس کی يہ آخری آرزو پوری ہوتی ہے ۔ اور اس سے بھی زيادہ خوش قسمت وہ شخص ہوتا ہے جس کے بچے اُس کا صرف خيال ہی نہيں رکھتے بلکہ اُس کی خدمت بھی کرتے ہيں ورنہ بعض اِنہی آرزوؤں اور انتظار کو سينے سے لگائے اس دنيا سے کُوچ کر جاتے ہيں ۔ * ميرا يہ بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر بھی پڑھ سکتے ہيں http://iftikharajmal.wordpress.com میرا انگريزی کا بلاگ یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔ Hypocrisy Thy Name مندرجہ ذیل یو آر ایلز ميں سے کسی ايک پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔ http://hypocrisythyname.blogspot.com http://iabhopal.wordpress.com

9 Comments:

At 8/17/2006 07:17:00 AM, Blogger Khawar said...

اس پوسٹ کے شروع ميں چلنے والی فلم کے آغاز ميں کيا لکها هے؟؟
يه لکها هے
人 
يعنی آدمی

ايک

پيدايش

آدمی کا جنم

 
At 8/17/2006 08:41:00 AM, Blogger iabhopal said...

خاور صاحب
ميرے کمپيوٹر پر يہ لکھا نظر نہيں آ رہا ۔ ويسے عنوان کے طور پر ٹھيک ہی ہے

 
At 8/17/2006 06:37:00 PM, Anonymous Munir Ahmad Tahir said...

خاور صاحب نے نہ جانے یہ لکھا کہاں سے دیکھ لیا، مجھے بھی یہاں اس طرح کی کوئی تحریر نظر نہیں آ رہی۔

 
At 8/18/2006 01:50:00 AM, Blogger Khawar said...

end less
کے الفاظ کے بعد جب يه سلايڈ دوباره شروع هوتی هے
تو لکيريں سی بن کر ان کے اوپر
يه الفاظ نظر آتے هيں
人の一生
دوباره غور سے ديکهيں

 
At 8/18/2006 09:05:00 AM, Blogger iabhopal said...

منير احمد طاہر صاحب
شروع ميں کچھ آڑی ترچھی لکيريں نظر آتی ہيں جن کو چينی يا جاپانی زبان کہا جا سکتا ہے ۔ ميں نے يہ لکيريں ديکھی تھيں مگر غور نہيں کيا کيونکہ مجھے چينی اور جاپانی نہيں آتيں ۔ البتہ خاور صاحب کو جاپانی آتی ہے ۔

خاور صاحب
کيا ميں نے اُوپر صحيح لکھا ہے ؟

 
At 8/18/2006 11:31:00 PM, Blogger منیراحمدطاہر said...

بلکل ایسا ہی ہو گا اس کی مزید تصدیق خاور صاحب ہی کریں گے

 
At 8/18/2006 11:39:00 PM, Anonymous tariquekamal said...

Aapki post kafi achi hay,
Main sirf yeh kahoonga kay, Agar main ghalat nahi to jo shair aapnay apni post kay shoroo main likha hay woo kuch istarah hona chahyeh.

عمردراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو ميں کٹ گئے دو انتظار ميں

 
At 8/19/2006 06:07:00 AM, Blogger iabhopal said...

منير احمد طاہر صاحب
آپ نے ٹھيک فرمايا ۔ تصديق خاور صاحب کو ہی کرنا چاہيئے

طارق کمال صاحب
آپ ٹھيک ہی فرما رہے ہوں گے ۔ جہاں تک مُجھے ياد پڑتا ہے ميں نے اس شعر کو بچپن ميں اِسی طرح پڑھا ليکن بعد ميں کسی نے اسے اس طرح گايا
عُمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن ۔

 
At 8/19/2006 11:19:00 PM, Blogger Khawar said...

جی ہاں ! یه جاپانی زبان هے
اس فقرے کا آخری لفظ

ذنده کچا اور پیدائش کے معنوں میں استعمال هوتا هے ـ
جاپانی میں آپ کا نام اجمل اسطرح لکها جائے گا
アジュマル
اور منیر اسطرح
ムニール

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home