Friday, November 17, 2006

تيز رفتار ترقی ؟ ؟ ؟

انٹرنيٹ پر سرگرداں تھا کہ ميری نظر ٹرانسپيرينسی انٹرنيشنل کی 11 اگست 2006 کو شائع ہونے والی رپورٹ پر اٹکی اور پاکستان کے متعلق دلچسپ معلومات حاصل ہوئيں ۔ حکومتوں کی کرپشن کا تقابلی جائزہ
۔
بينظير کا پہلا دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1988 سے 1990۔ ۔ ۔ 8.00 فيصد
نواز شريف کا پہلا دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1990 سے 1993 ۔ ۔ 10.00 فيصد
بينظير کا دوسرا دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1993 سے 1996 ۔ ۔ 48.00 فيصد
نواز شريف کا دوسرا دور ۔ ۔ 1996 سے 1999 ۔ ۔ 34.00 فيصد
پرويز مشرف کا پہلا دور ۔ ۔ ۔ 1999 سے 2002 ۔ ۔ 33.69 فيصد
پرويز مشرف کا دوسرا دور ۔ 2002 سے 2006 ۔ ۔ 67.31 فيصد
۔
صوبائی کرپشن کی موجودہ صورتِ حال کا تقابلی جائزہ
۔
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 42.7 فيصد
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 28.7 فيصد
بلوچستان ۔ ۔ ۔ 15.1 فيصد
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 13.5 فيصد
۔
محکموں کا تقابلی جائزہ بالحاظ کرپشن
سب سے زيادہ کرپٹ سب سے اوپر اور سب سے کم کرپٹ سب سے نيچے
۔
سن 2002 ميں ۔ ۔ سن 2006 ميں
پوليس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پوليس
پاور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاور
ٹيکسيشن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عدالتی نظام
عدالتی نظام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لينڈ
کسٹم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹيکسيشن
محکمہ صحت ۔ ۔ ۔ ۔ کسٹم
لينڈ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محکمہ صحت
محکمہ تعليم ۔ ۔ ۔ ۔ محکمہ تعليم
ريلوے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ريلوے
بينک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بينک
۔
اداروں کی کرپشن کا تخمينہ
جو بالکل کرپٹ نہيں اُس کے نمبر صفر ۔ انتہائی کرپٹ کے 4 نمبر
۔
ادارہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرپشن کے نمبر
سياسی جماعتيں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3.0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 75.0 فيصد
سينٹ اور اسمبلياں ۔ ۔ ۔ ۔ 2.7 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 67.5 فيصد
پوليس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.6 ۔ ۔۔ ۔ ۔ 65.0 فيصد
عدالتی نظام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.5 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 62.5 فيصد
نجی تجارتی ادارے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.4 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 60.0 فيصد
ٹيکس ريوينيو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.4 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 60.0 فيصد
کسٹم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.3 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 57.5 فيصد
ذرائع ابلاغ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.2 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 55.0 فيصد
ميڈيکل سروسز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.2 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 55.0 فيصد
يوٹيليٹيز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 50.0 فيصد
تعليمی ادارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2.0 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 50.0 فيصد
فوج ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1.9 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 47.5 فيصد
رجسٹری و پرمٹ سروسز ۔ 1.9 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 47.5 فيصد
اين جی اوز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1.8 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 45.0 فيصد
مذہبی ادارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1.6 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 40.0 فيصد
۔
نوٹ ۔ مذہبی ادارے کا مطلب يہاں متحدہ مجلسِ عمل يا ايم ايم اے نہيں ہے

5 Comments:

At 11/17/2006 07:22:00 PM, Blogger میرا پاکستان said...

یہ بات تو ریکارڈ پر ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مزہبی اداروں اور لوگوں میں کرپشن سب سے کم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہم اس بات کے حامی ہیں کہ پاکستان کے کرپٹ ترین محکموں میں اگر فوج کی بجاۓ مزہبی حضرات کو تعینات کیا جاۓ تو ملک کی ترقی کی رفتار دگنی ہوسکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں حرامی لوگ داڑھیاں رکھ کراس موقعے سے فائدہ اٹھانا شروع کردیں۔

 
At 11/17/2006 09:15:00 PM, Blogger urdudaaN said...

محترم

کیا کرپشن کیلئے مناسب لفظ رشوت خوری نہیں ہوگا؟
ساتھ ہی لفظ راشی غالباً رشوت خور کیلئے استعمال ہوگا۔

دیگر الفاظ فساد، بگاڑ، تصحیف، بدچلنی، بداخلاقی اور بداطواری ہیں۔

 
At 11/18/2006 08:01:00 AM, Blogger iabhopal said...

افضل صاحب ۔
آپ کا خيال ٹھيک ہے ۔ ميرے خيال ميں جو مذہبی اداروں کی کرپشن بتائی گئی ہے يہ بھی اُن لوگوں کی وجہ سے ہے جو صرف داڑھی رکھ کر مذہبی کہلواتے ہيں ۔ آپ نے جو بات کہی ہے حسبہ کا قانون اسلام ميں اسی لئے ہے ۔ اب متحدہ مجلسِ عمل والے اور سرحد کی حکومت اس کا نفاذ کس طرح کريں گے يہ آنے والا وقت بتائے گا ۔ اگر اُنہوں نے اس پر صحيح عمل کيا تو پاکستان کے دوسرے صوبوں ميں بھی حسبہ کے حق ميں آواز اٹھ سکتی ہے ۔ يہی خوف روشن خيالوں پر طاری ہے ُ

پرويز صاحب
آپ کی رائے کا شکريہ ۔ بات يہ ہے کہ جسے کرپشن کہا گيا ہے اس ميں صرف رشوت ستانی نہيں بلکہ دوسری قباحتيں جيسے ، تصحیف ۔ بدچلنی اور بداطواری وغيرہ بھی شامل ہیں

آپ نے ايک بہت اہم بات مجھے ياد دلا دی ۔ رشوت دينے والا راشی ہوتا ہے اور رشوت لينے والا مُترشی ۔ اسلام کے مطابق راشی بڑا مُجرم ہے ۔ عام لوگ رشوت دے کر اپنے آپ کو بيگناہ اور لينے والے کو گنہگار سمجھتے ہيں

 
At 11/20/2006 02:01:00 PM, Blogger urdudaaN said...

جناب

اوّل یہ کہ
لفظ راشی سے متعلق آپ کی تشریح کیلئے میں بہت ممنون ہوں۔ میری معلومات تو اُلٹی ہی نکلی۔ خیر آپ جیسے حضرات مجھے مایوسی سے بچالیتے ہیں۔

دوّم یہ کہ
آپ نے جس رپورٹ کا حوالہ دیا ہے ان کی نظر میں بداطواری اور بدچلنی کرپشن کے زمرے میں شاید ہی آتے ہوں۔ اور اگر آتے بھی ہوں تو کیا اس رپورٹ میں یہ عوامل شامل تھے؟
مجھے لگتا ہے کہ وہ یہاں صرف رشوت خوری کا ذکر کررہے ہیں۔ لہٰذا میری رائے میں آپ رشوت خوری کی اصطلاح استعمال کرتے تو مناسب ہی ہوتا۔ رشوت خوری کے محدود معنی میں بھی۔
ویسے انگریزی لفظ کرپشن کیلئے مجھے سب سے مناسب اردو اصطلاح بدعنوانی لگتی ہے۔

حصّہ دوّم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ڈرتا ہوں کہ میرے سے کوئی گستاخی سرذد نہ ہوئی ہو۔

 
At 11/20/2006 04:19:00 PM, Blogger iabhopal said...

اردودان صاحب
رشوت ستانی نہيں البتہ بدعنوانی موزوں ہے

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home