Sunday, November 05, 2006

منافقت کسے کہتے ہيں ؟ ؟ ؟

مغربی دنيا کے مُلک انسانيت سے محبت اور آزادی اظہارِ خيال کے بلند بانگ دعوے کرتے نہيں تھکتے ۔ جب توہينِ رسالت کرتے ہوئے کارٹون چھاپے گئے تو مغربی دنيا کے مُلکوں نے مسلمانوں کا احتجاج يہ کہ کر رد کر ديا تھا کہ اظہارِ خيال پر پابندی نہيں لگائی جا سکتی ۔
۔
حال ہی ميں فرانس نے ايک قانون منظور کيا ہے جس کے تحت اس خيال سے متفق نہ ہونا کہ تُرکی نے 1915 سے 1917 عيسوی تک 15 لاکھ آرمينيائی لوگوں کو ہلاک کيا تھا قابلِ سزا جرم ہو گا ۔ اگر اس مفروضے کو سچ سمجھ بھی ليا جائے تو بھی کيا يہ قانون بذاتِ خود جمہوری اصولوں بشمول آزادی اظہارِ خيال پر جبری پابندی نہيں ؟
۔
خيال رہے کہ پہلی جنگِ عظيم 1914 سے 1918 عيسوی تک ہوئی ۔ اس ميں فرانس ۔ روس ۔ برطانيہ ۔ اٹلی اور امريکہ نے آسٹريا ۔ ہنگری ۔ جرمنی ۔ بلغاريہ اور سلطنتِ عُثمانيہ پر حملہ کيا اور ان کو شکست دی بالخصوص سلطنتِ عثمانيہ جس کا مرکز تُرکی تھا کا شيرازہ بکھر گيا ۔ ان حالات ميں تُرکی جسے اپنی جان کے لالے پڑے تھے اتنے بڑے پيمانے پر آرمينيائی لوگوں کو ہلاک کرنا تو کُجا اس کی منصوبہ بندی بھی کيسے کر سکتا تھا ؟ و اللہُ علم بالصواب ۔
۔
يہ قانون کوئی نئی بات نہيں ۔ اس سے بہت پہلے ہٹلر کے 60 لاکھ يہودی گيس چيمبر ميں ہلاک کرنے سے انکار يا اس پر تنقيد قابلِ سزا جرم قرار ديا جا چکا ہے اور کئی لوگوں کو اختلاف کا اظہار کرنے پر سزا بھی ہوئی ہے ۔ يہ الگ بات ہے کہ اس کی عملی صورت کا جائزہ ليں تو يہ واقعہ بہت مبالغہ آميز لگتا ہے ۔ ميں نے آج سے تقريباً چار دہائياں قبل جرمنی ميں ايک مقام ديکھا تھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ پندرہ بيس لاکھ يہودی وہاں رکھے گئے تھے ۔ ميرے اندازے کے مطابق وہاں چار پانچ لاکھ آدمی سمونا بھی مشکل تھا ۔ و اللہُ علم بالصواب ۔
۔
مغربی دنيا کے ليڈر ہمشہ اپنے مخالفوں بالخصوص مسلمانوں ميں کيڑے نکالتے اور اُن پر پابندياں لگاتے آئے ہيں ليکن جب اُن ميں سے کوئی ظُلم کرتا ہے يا ظُلم کی حمائت کرتا ہے تو وہ عين جمہوری اقدام اور آزادیِٔ اظہار خيال ہوتا ہے ۔
۔
کيا فرانس کيلئے زيادہ موزوں نہيں تھا کہ 1950 کی دہائی ميں فرانسيسی فوج نے الجزائر ميں لاکھوں مسلمانوں کا جو بلاجواز قتلِ عام کيا اُس پر شرمندہ ہو کر معافی مانگتا ؟ يا پھر اپنے حواريوں کے مندرجہ ذيل کرتوتوں پر نظر ڈالتا ؟
۔
روس کے حکمران سٹالن کے دور ميں 70 لاکھ يوکرينی باشندے قتل کئے گئے اور 20 لاکھ کو کيمپوں ميں قيدی بنايا گيا ۔ قيديوں کی تعداد بڑھ کر دوسری جنگِ عظيم کے آخر تک 55 لاکھ ہوگئی ۔
۔
مزيد روس نے وسط ايشيا کے مسلمانوں کی نسل کُشی کی جس ميں عورتوں اور بچوں سميت 20 لاکھ مسلمان قتل کئے گئے جن ميں چيچن ۔ کريمين ۔ قزاخ ۔ تاجک ۔ تاتار ۔ بَشکِر ۔ اِنگَش ۔ وغيرہ شامل تھے ۔
۔
دوسری جنگِ عظيم کے دوران اور بعد ميں نسلی بنياد پر 20 لاکھ جرمن مار دئيے گئے اور ايک کروڑ 50 لاکھ کو زبردستی جرمنی سے نکال ديا گيا جن ميں سے 20 لاکھ لڑکيوں اور عورتوں کی عزتيں لوٹی گئيں ۔
۔
کون نہيں جانتا کہ امريکہ نے ہيروشيما اور ناگاساکی پر اگست 1945 ميں ايٹم بم گرا کر دو لاکھ سے زائد شہری جن ميں زيادہ تر بوڑھے عورتيں اور بچے تھے ہلاک کئے ؟
۔
امريکہ نے صرف چين کو نيچا دکھانے کيلئے 1965 سے 1973 تک ويت نام ميں دس لاکھ يا زائد ويت نامی باشندے ہلاک کئے ۔
۔
روس نے 1979 عيسوی ميں افغانستان پر قبضہ کے دوران عورتوں اور بچوں سميت 20 لاکھ افغان ہلاک کر دئے اور 50 لاکھ کو پاکستان اور ايران ميں دھکيل ديا ۔
۔
کيا سربوں نے 1990 کی دہائی ميں بوسنيا اور کوسوو کے مسلمانوں کی نسل کُشی کی خاطر لاکھوں مردوں عورتوں اور بچوں کا بے دريغ قتلِ عام نہيں کيا ؟
۔
کيا امريکہ نے جھوٹا بہانہ بنا کر افغانستان اور عراق کو ملياميٹ نہيں کيا ؟ اور لاکھوں شہری بوڑھے عورتيں اور بچے ہلاک نہيں کئے ؟ اور کيا ان ملکوں کی پيداوار پر ناجائز قبضہ نہيں کئے بيٹھا ؟
۔
يہ کوئی نہيں پوچھتا کہ پچھلی چھ دہائيوں ميں کشمير اور فلسطين ميں کون لاکھوں شہری جوانوں عورتوں اور بچوں کو ہلاک کر چکا ہے اور مزيد ہلاک کئے جا رہا ہے ؟ دس سالہ بچی سے لے کر سَتَر سالہ بوڑھی عورت تک ہرازروں عورتوں کی عزتيں کيوں لُوٹی گئيں ؟
۔
کيا ان سب قاتل حکومتوں کے خلاف بيہيمانہ قتلِ عام کے مقدمے نہيں چلنے چاہيں ؟ کيا يہ قتلِ عام اور نسل کُشی انسانيت سے محبت کا ثبوت ہے ؟
۔
اس سے بڑھ کر منافقت اور کيا ہو سکتی ہے ؟

3 Comments:

At 11/05/2006 09:34:00 AM, Anonymous زکریا said...

فرانس نے یہ قانون بنا کر اچھا نہیں کیا۔ آزادی اظہار اہم ہے اور ایسے قوانین غلط۔

پہلی جنگ عظیم میں امریکہ 1917 میں شامل ہوا تھا جبکہ جنگ تین سال سے جاری تھی۔ اور اس کا آغاز جرمنی، آسٹریا اور ترکی وغیرہ کی طرف سے ہوا تھا۔

آرمینیوں کے قتل عام کی واضح شہادتیں موجود ہیں مگر اس پر اختلاف ہے کہ اسے جینوسائڈ کہا جائے یا نہیں اور یہ کہ کتنے لوگ مارے گئے۔

معلوم نہیں آپ نے جرمنی میں کونسا کیمپ دیکھا تھا مگر نازیوں کے سارے ڈیتھ کیمپ پولینڈ میں تھے۔ جرمنی میں جو کیمپ تھے ان میں سے کسی میں لاکھ سے اوپر لوگ نہیں قتل کئے گئے۔ 10 سے 15 لاکھ والا کیمپ شاید یہ تھا:

Auschwitz

مگر یہ پولینڈ میں ہے۔

 
At 11/06/2006 03:43:00 PM, Blogger iabhopal said...

زکريا بيٹے
پولينڈ کے جس کيمپ کا نام آپ نے لکھا ہے اسے سب سے بڑا ڈيتھ کيمپ کہا جاتا ہے ۔ ميں کنسينٹريشن کيمپوں کی بات کر رہا ہوں جو کہ کہا جاتا ہے جرمنی اور پولينڈ ميں نو نو ۔ يوکرين ۔ ليتويا ۔ آسٹريا ۔ فرانس اور جمہوريہ چيک ميں ايک ايک تھا ۔ مجھے کيمپ والے شہر کا نام ياد نہيں رہا ۔ وجہ يہ کہ 40 سال پہلے ديکھا تھا اور وہم و گماں ميں نہ تھا کہ کبھی ان معلومات کی مجھے ضرورت پڑے گی ۔

 
At 11/11/2006 09:46:00 AM, Anonymous زکریا said...

کیمپس کی فہرست

مغربی جرمنی کے وہ دو کیمپ جہاں سب سے زیادہ لوگ (پچاس پچاس ہزار) مارے گئے:

Bergen-Belsen

Neuengamme

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home