Monday, October 16, 2006

جے اخبار کہندا اے تے ٹھيک ای ہوسی

کئی سال قبل پشاور ٹی وی پر ايک پروگرام ہوتا تھا جس کا عنوان تھا ۔ جے اخبار کہندا اے تے ٹھيک ای ہوسی ۔ يعنی اگر اخبار يہ کہتا ہے تو ٹھيک ہی ہو گا ۔ اس پروگرام ميں بتايا جاتا تھا کہ اخبار حقيقت کے برعکس کوئی خبر يا مضمون چھپے تو لوگ اسے حقيقت مانتے ہيں ۔ آج کے زمانہ ميں پروپيگنڈا بہت کامياب ہتھيار ہے جو حقيقت کو غَلَط کا اور اِختراع کو حقيقت کا رُوپ ديتا ہے ۔
۔
آج کی تاريخ 1951 ميں سہ پہر کے وقت راولپنڈی کے کمپنی باغ ميں پاکستان کے پہلے مُنتخب وزيرِاعظم نوابزادہ لياقت علی خان کو ہلاک کر ديا گيا ۔ متوقع ردِ عمل کی شدّت کو کم رکھنے کيلئے بہت پہلے سے ناعاقبت انديش پاکستانيوں نے غير ملکی دشمنوں کے ہاتھوں ميں کھيلتے ہوئے اُن کے دامن کو پروپيگنڈا کے زور سے داغدار بنانے کی کوشش کی ۔ نوابزادہ لياقت علی خان امريکہ گئے تو ان کی بيوی بھی ان کے ہمراہ تھيں ۔ ايک طوفان بپا ہوا کہ شرم نہيں آتی بيوی کو ساتھ لے گيا ۔ واپسی پر پھيلايا کہ امريکہ کا زيرِ نگوں بن کے آگئے ہيں ۔ پھر اُن کی بيوی کے متعلق کہا گيا کہ مسلمان نہيں ہے ۔ اخباروں ميں اور ہر کس و ناکس کی زبان پر يہی تذکرے آگئے ۔
۔
ميری بچپن سے عادت ہے کہ اگر کسی کی اچھائی بيان کی جائے تو جلدی مان ليتا ہوں ليکن بُرائی بيان کی جائے تو بغير تحقيق کے نہيں مانتا ۔ سو ميں نے تحقيق جاری رکھی ۔ بيگم لياقت علی خان کا مُسلم ہونا تو لياقت علی خان صاحب کے قتل کے بعد ثابت ہوگيا جب سب نے اُنہيں باقاعدہ تلاوت کرتے ديکھا ۔ کئی دہائياں بعد ايک ريٹائرڈ سينيئر سرکاری ملازم سے معلوم ہوا کہ نوابزادہ لياقت علی خان صاحب کو مع بيوی کے امريکہ آنے کی دعوت دی گئی تھی اور وہاں اُن پر امريکہ کا حواری بننے کيلئے بہت دباؤ ڈالا گيا مگر وہ نہ مانے ۔ آخر اُن کو قتل کروا ديا گيا تاکہ امريکہ نواز لوگ حکومت ميں آ سکيں ۔ قتل کی سازش کو کامياب بنانے کيلئے کرائے کا قاتل سَيد اکبر [سيّد نہيں] حاصل کيا گيا اور قتل کے فوراً بعد ايک تھانيدار نے سَيد اکير کو گولی مار کر ہلاک کر ديا ۔
۔
ان سوالوں کا خاطر خواہ جواب کسی نے آج تک نہيں ديا
سرکاری احکامات کے خلاف اس دن بُلٹ پروف روسٹرم سٹيج پر کيوں نہ تھا ؟ بلکہ روسٹرم تھا ہی نہيں
سَيد اکبر ايک عام آدمی اور غيرملکی ہوتے ہوئے پستول ليکر سب سے اگلی صف ميں کس طرح بيٹھ گيا اور کسی سکيورٹی والے کو وہ نظر بھی نہ آيا جب کہ اگلی صف سکيورٹی والوں کی تھی ؟
ايک تھانيدار نے سَيد اکبر کو گولی مار کر ہلاک کيوں کيا جبکہ دوسری صف ميں بيٹھے ايک سيکيورٹی اہلکار نے سَيد اکبر کو قابو کر ليا تھا ؟
تھانيدار پر سَيد اکبر کو قتل کرنے اور اس قتل سے ملک کے وزيراعظم کے قتل کی تفتيش ميں رخنہ ڈالنے کا مقدمہ کيوں نہ چلايا گيا ؟
۔
پاکستان کے دوسرے وزيراعظم خواجہ ناظم الدين کے متعلق مشہور کيا گيا کہ بہت زيادہ کھاتے ہيں اور صرف روسٹ مُرغياں کھاتے ہيں ۔ بہت لالچی آدمی ہيں ۔ جب اُن کی نظريں سير نہيں ہوتيں تو کھايا ہوا قے کر کے اور کھاتے ہيں ۔ کسی نے يہ بات بھی پھيلانے کی کوشش کی کہ وہ امريکہ کے منظورِ نظر ہيں اسلئے مسند پر بيٹے ہيں ورنہ بالکل نا اہل ہيں ۔
۔
حقيقت يہ تھی وہ کم خور تھے اور اُن کے جسم کو پانی قابو کرنے [Water Retention] کی بيماری تھی جس کا اُس زمانہ ميں خاطرخواہ علاج معلوم نہ تھا ۔ وہ موروثی زميندار تھے اگر وہ لالچی ہوتے تو سارا زميندارا چھوڑ کر قوم اور ملک کی خدمت ميں نہ لگ جاتے ۔ وہ انتہائی شريف منش آدمی تھے اس لئے پاکستان دشمن لوگوں کا خيال تھا کہ مغرب کے پٹھو غلام محمد کے گورنرجنرل بن جانے پر وہ کوئی مزاہمت نہيں کريں گے ليکن سياسی وابستگی کے تحت امريکی گندم کی اُنہوں نے مخالفت کی جس کے نتيجہ ميں غلام محمد نے خواجہ ناظم الدين کی منتخب حکومت برطرف کردی اور غلام محمد کے ہم نوالا و ہم پيالہ جسٹس منير نے اس غلط اقدام کو جائز قرار دے کر نظريہ ضرورت کا پھندہ ہميشہ کيلئے پاکستانی قوم کے گلے پر کَس ديا ۔ بعد ميں يہی سياسی گندم کا تحفہ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹيٹر جنرل ايوب خان نے قبول کيا اور پاکستانی قوم محکوم ہونا شروع ہوگئی ۔

2 Comments:

At 10/16/2006 05:36:00 PM, Blogger میرا پاکستان said...

تاریخ کے اوراق پلٹنے اور ان قیمتی معلومات کا شکریہ۔
اس کا مطلب ہے کہ ہم شروع سے ہی امریکہ کے نیچے لگے ہوۓ ہیں۔

 
At 10/17/2006 06:16:00 AM, Blogger iabhopal said...

افضل صاحب
ہماری قوم کے بيشتر لوگ گوری چمڑی کے غلام ہيں ۔ آج سے تيس سال پہلے کا واقع ہے جب ہِپّی عورتيں اور مرد يورپ سے نکل کر دنيا ميں پھيل رہے تھے ۔ ان کے پاس کچھ کھانے کيلئے بھی جيب ميں پيسہ نہ ہوتا تھا ۔ ۔ اُن کے کپڑے ميلے اور نہائے ہوئے اُنہيں مہينے گذر گئے ہوتے تھے ۔ ان ميں سے اگر کوئی عورت ہمارے ہموطن کی طرف مسکرا کر ديکھ لے تو وہ اتنا فريفتہ ہو جاتا کہ اچھے ہوٹل ميں ليجا کر اُسے کھانا کھلاتا اور اپنے احباب ميں فخريہ يہ قصہ سناتا ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home