Saturday, November 19, 2005

حشر نشر

علامہ اقبال کے شعروں کے ساتھ بہت لوگوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور بعض اوقات اس پسندیدگی نے حشر نشر کی صورت اختیار کی ۔ بہت پرانی بات ہے راولپنڈی میں راجہ بازار کے فوارہ چوک (جہاں کبھی فوارہ بنا دیا جاتا ہے اور کبھی توڑ دیا جاتا ہے) سے لیاقت روڈ پر چلیں تو بائیں طرف ایک ہوٹل ہوتا تھا "علی بابا ہوٹل ۔ آنہ روٹی دال مفت" روپے میں 16 آنے ہوتے تھے اور یہ روٹی آجکل کی پانچ روپے والی کے برابر تھی ۔ اس ہوٹل کی دیوار پر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے ٹوٹل پر تو شاہین ہے کر بسیرا علی بابا کے ہوٹل پر اسی زمانہ میں ایک رسالے میں کارٹون شائع ہوا جس میں لکھا تھا
خودی کو کر بلند اتنا کہ جا پہنچے پہاڑی پر خدا بندے سے پھر پوچھے دس پترا اترسیں کس طراں

6 Comments:

At 11/19/2005 11:15:00 PM, Anonymous Ali K Chishti said...

I am 22 and what I know about Pakistan and Pakistanis as a Pakistani myself , is that our country's sense of humour has gone worse as time has progressed and then I look at what English society and there sense of humour was and is , I smile , sips my morning strong english tea and consider myself a proud urdu speaking , Pakistani . Even the most vulger of our bus and truck poetery is better then any contemprory english literature.

 
At 11/20/2005 01:58:00 AM, Blogger Asma said...

علامہ اقبال کے بہت سے اشعار کا حشر نشر کیا گیا ہے، میں شاید آٹھویں میں تھی، اردو کا فائنل پرچہ تھا، قائدِاوظم پہ مضمون لکھ لیا، وہ شعر بھی لکھنا تھا ۔۔۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ چمن میں ہوتا ہے دیدہ ور پیدا

مجھے پھر اصل بھول گیا، اب مجھے وہاں جو شعر یاد آیا وہ یہ تھا کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ تب جا کے کہیں اس کی شادی ہوتی ہے

کوئی آدھے گھنٹے بعد اصل شعر یاد آیا تو اللہ کا شکر ادا کیا۔

 
At 11/20/2005 10:22:00 AM, Blogger Attiq-ur-Rehman said...

چند سال پہلے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر اقبال کے حوالے سے ایک پروگرام کی کمپئر نے اقبال کے ایک مشہور زمانہ شعر کا مصرعہ کچھ اس طرح پڑھا تھا۔
“ گیسوئے تابے دار کو اور بھی تابے دار کر“

 
At 11/20/2005 01:02:00 PM, Blogger iabhopal said...

علی کے چشتی صاحب
صرف شاعری ہی میں نہیں ہماری قوم ہر عمل میں انحطاط کا شکار ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس سے نہ صرف ناواقف ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ ہم ترقی کر گئے ہیں ۔

اسماء صاحبہ
بات یہ ہے کہ ہم لوگ سواۓ سرٹیفیکیٹ اور گریڈ حاصل کرنے کے علم کا کوئی اور مطلب نہیں لیتے ۔ شعر جو آپ کو پھر بھول گیا ہے وہ میں نے آٹھویں جماعت میں آج سے پچپن سال پہلے پڑھا تھا اور ابھی تک یاد ہے ۔ کیا آپ جانتی ہیں کہ یہ تشبیح کیرں دی علّامہ نے ؟
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

عتیق الرحمان صاحب
آپ سروے کر کے دیکھ لیجئے سواۓ چند افراد کے باقی سب جو شو بز یا صحافت میں جاتے ہیں وہ کسی اور منافع بخش کام کی اہلیت نہیں رکھتے ۔

 
At 11/23/2005 07:56:00 PM, Blogger urdudaaN said...

میری رائے میں لفظ غالباً تشبیہہ ھے۔ میرا مغالطہ از راہِ کرم دُور فرمائیں۔

 
At 11/23/2005 08:54:00 PM, Blogger iabhopal said...

اردودان صاحب
تصحیح کا شکریہ ۔ میں نے غلط لکھ دیا تھا ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home