Tuesday, December 27, 2005

اندازِ پسند

جن جوتوں کو پہننے سے آپ کے پاؤں میں تکلیف محسوس ہو انہیں پہننے سے دوسررں کو بھی تکلیف ہی ہو گی ۔ ہمیشہ خیال رکھئے کہ دوسرے کے لئے وہی پسند کیجئے جو آپ کو پسند ہو

4 Comments:

At 12/27/2005 12:19:00 PM, Anonymous Anonymous said...

میرے خیال میں جوتوں کا استعارہ مناسب نہیں۔ پھر کیا ہو کہ اگر دوسروں کو وہی جوتا پورا آجائے۔ سیدھی بات زیادہ مناسب ہو گی۔ مثلاُ جن باتوں کو سننے سے آپ کے سر میں درد ہو یا کانوں میں تکلیف محسوس ہو ان سے دوسروں کو تکلیف ہو گی۔ معذرت کے ساتھ جملے کی اصلاح کر رہا ہوں کیونکہ دل شکنی مناسب نہیں سمجھتا۔ مجھے لگتا ہے آپ نے جان بوجھ کر اپنے قارئین کا امتحان لینے کی غرض سے ایسا لکھا ہے۔

 
At 12/27/2005 12:38:00 PM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

جنجوعہ صاحب
بات آپ کی سمجھ میں آ گئی سو میرا مقصد پُورا ہو گیا ۔ سیدھا سیدھا لکھنے سے قارئین کی ناراضگی کا خدشہ تھا ۔ میں نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ مماثلت ڈھونڈی ہے

 
At 12/28/2005 03:00:00 PM, Blogger Saqib Saud said...

اور جو جوتے آپ پہن نہ سکیں وہ بغل میں دبانے پڑتے ہیں۔

اور اگر آپ کو کسی کو بغل میں جو تا دباۓ دیکھ کر تکلیف ہو تو اپنے جو تے واپس پہن لیں۔

:))

 
At 12/28/2005 08:22:00 PM, Blogger افتخار اجمل بھوپال said...

ثاقب سعود صاحب
بغل میں جوتے دبانے والے دوسرے کے لئے تنگ جوتے نہیں خریدتے ہوں گے :)

 

Post a Comment

<< Home