Friday, December 09, 2005

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ۔ ۔ ۔

آجکل ہمارا حال یہ ہے ۔ ۔ ۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان مگر پھر بھی کم نکلے سال کے شروع میں ایک بلاگر نے خواہش ظاہر کی "چونکہ مجھے مرزا غالب کی شاعری اور چائے پسند ہے اس لئے مرزا غالب بھی چائے پیتے ہونگے" ۔ میں نے لکھا تھا کہ چاۓ کی تاریخ تحریر کروں گا ۔ میں نے اپنے علمی خزانے سے معلومطات اکٹھی کرنا شروع کر دیں تھیں کہ اچانک دین اور دنیا۔ پھر دین اور سائینس ۔ اس کے بعد تحریک آزادی جموں کشمیر کے متعلق سوال اٹھاۓ گئے اور میں حقائق واضح کرنے کی اپنی سی کوشش کرتا رہا ۔ اس کے بعد وہ ہوا جس نے نہ صرف زمین بلکہ جانداروں کو بھی جھنجوڑ کر رکھ دیا اور مجھے سب کچھ بھول گیا سواۓ متاءثرین زلزلہ کے ۔ اب میں اپنا قول پورا کرنے کی ابتداء کرتا ہوں ۔ اللہ سبحانہ و تعالی میری مدد فرماۓ ۔ مرزا اسد اللہ خان غالب 1796 میں پیدا ہوئے اور 1869 میں وفات پائی۔ اس زمانہ میں یہ کالی یا انگریزی چائے جو آجکل عام پی جاتی ہے ہندوستان میں وارد نہیں ہوئی تھی ۔ کالی چائے یا انگریزی چائے بیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان میں متعارف کرائی گئی۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہندوستانی فوجیوں کو پہلی جنگ عظیم کے دوران سستی خوراک دی جائے۔ ایک برطانوی کمپنی نے ہندوستانی فوج کی خوراک کا خرچہ کم کرنے کے لئے بالخصوص تحقیق کر کے یہ کالی چائے دریافت کی ۔ یہ چائے بھوک کو مارتی ہے اس لئے اس کا انتخاب کیا گیا۔ ہندوستانی فوجیوں کو چائے ۔ بھنے ہوئے چنے اور کرخت بسکٹ بطور ناشتہ اور دوپہر اور رات کا کھانا دیا جاتا تھا۔ کالی چائے سے پہلے ہندوستان بلکہ ایشیا میں چار قسم کی چائے رائج تھیں اور نمعلوم کب سے زیر استعمال تھیں ۔ ایک ۔ جس کو آج ہم قہوہ یا سبز چائے کہتے ہیں ۔ لیمن گراس نہیں ۔ دو ۔ قہوہ ہلکے براؤن رنگ کا لیکن کالی پتی کا نہیں ۔ تین ۔ قہوہ گہرے براؤن رنگ کا جو کڑوا ہوتا ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں اور عرب ممالک میں اب بھی پیا جاتا ہے چار ۔ نمکین چائے جسے کشمیری چائے بھی کہتے ہیں ۔جو آج کل بڑے ہوٹلوں میں بغیر نمک کے پلائی جا رہی ہے ۔ ہم نےگوری چمڑی کی تقلید میں چائے کی فائدہ مند قسمیں چھوڑ کر مضر کالی چائے اپنا لی ۔ دوسری علّت جو انگریز ہمیں دے گئے وہ سگریٹ ہے ۔ چائے تیار کر کے اور سگریٹ سلگا کر شرو‏ع میں ہندوستان کے لوگوں کو چوک میں کھڑے ہو کر مفت پلائے گئے اور گھروں کے لئے بھی مفت دیئے گئے ۔ جب لوگ عادی ہو گئے تو معمولی قیمت لگا دی گئی۔ پھر آہستہ آہستہ قیمت بڑھتی چلی گئی۔ آج ہماری قوم ان فضول اور نقصان دہ چیزوں پر اربوں روپیہ ضائع کرتی ہے ۔

7 Comments:

At 12/09/2005 11:42:00 AM, Anonymous Asma said...

Assalam o alaykum w.w.!

Hmmm ... have a look at this too.

Wassalam :)

 
At 12/09/2005 01:28:00 PM, Blogger ---- said...

خوچہ ہم بھی آج قہوہ پیے گا۔

 
At 12/09/2005 01:29:00 PM, Blogger ---- said...

خوچہ آج ہم بھی قہوہ ہیے گا۔

 
At 12/09/2005 02:12:00 PM, Blogger Fahd Mirza said...

What do you suggest than, Coffee?

 
At 12/09/2005 08:22:00 PM, Blogger Attiq-ur-Rehman said...

السلام علیکم
واقعی ! چائے ہماری زندگی کا لازمی جزو بن کر رہ گئی ہے۔ اپنی بات بتاؤں کئی مرتبہ اسے چھوڑ نے کی کوشش کی مگر “ چھٹتی نہیں ہے ظلم منہ کو لگی ہوئی “ والی کیفیت ہے۔

 
At 12/09/2005 10:44:00 PM, Anonymous Anonymous said...

غالب کو شراب بھی پسند تھی ـ

 
At 12/10/2005 06:57:00 PM, Blogger iabhopal said...

اسماء صاحبہ
یہ لنک جو آپ نے لکھا ہے کھلتا ہی نہیں ۔ چاۓ تو آپ کو بہت پسند ہے لیکن میں صرف حقائق لکھوں گا اسلئے ناراض ہونے کی کوشش نہ کیجئے گا ۔

راجہ محمد نعیم اختر صاحب
جم جم پیئو قہوہ تے جگ جگ جیئو

عتیق الرحمان صاحب
کالی یا انگریزی چاے ایک نشہ ہے اسی لئے اس چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home