Wednesday, April 05, 2006

ایک سفر کی روداد

ہمیں دولہا کی طرف سے شرکت کی دعوت ملی جن کی رہائش سیالکوٹ میں ہے ۔ جمعہ 6 جنوری کو بارات لاہور جانا تھی ۔ میری کمر اور ٹانگ کے درد کے پیشِ نظر شورہءِ خانہ نے فیصلہ کیا کہ کار چلانا میرے لئے مُضِر ہو گا اِس لئے بس پر سفر کیا جائے اور اِس کے لئے دَیوُو کا انتخاب کیا گیا جس کا کرایہ دوسری بس سے تقریباً دوگُنا تھا ۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ آرام دہ ہے اور مسافت میں کم وقت لے گی ۔ جمعرات کو 12 بجے دوپہر ایف ۔ 8 ٹرمینل پہنچے جہاں سے وین پر راولپنڈی پہنچائے گئے ۔ وہاں بس میں بیٹھے جو ایک بجے چلی ۔ بس گجرات میں 15 منٹ رُکنے کے بعد چلی مگر شہر کے اندر ہی ٹریفک میں پھنس گئ ۔ سامنے سے آنے والی گاڑیوں نے ساری سڑک روک رکھی تھی اور ایک گاڑی بائیں جانب کی سڑک سے بیچ میں گھس گئی تھی اور کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔ آدھا گھینٹہ گذرنے کے بعد کچھ سواریوں کو نزاکت کا احساس ہوا اور اُنہوں نے اپنی گاڑیوں سے نیچے اُتر کر گاڑیوں کو آگے پیچھے کروایا تو مزید 15 منٹ بعد وہاں سے نکلے ۔ دَیوُو والے راستہ میں مشروب اور کچھ کھانے کو بھی دیتے ہیں ۔ جب ملا تو علم ہوا کہ مِقدار کم ہو چکی ہے اور معیار بھی گِر چکا ہے ۔ نمعلوم کیوں ہمارے ملک میں ہر چیز بڑے طمطراق سے شروع ہوتی ہے اور بعد میں یہی حال ہوتا ہے ۔ پھر پتہ چلا کہ وزیر آباد سیالکوٹ سڑک بن رہی ہے اس لئے براستہ گوجرانوالا جائیں گے ۔ چنانچہ پونے سات بجے یعنی پونے سات گھنٹے میں سیالکوٹ پہنچے جبکہ دوسری بس ساڑھے پانچ گھینٹے میں پہنچنا تھی ۔ * قارئین سے گذارش اگر میرا بلاگ براہِ راست یا اُوپر عنوان پرکلک کرنے سے نہ کھُلے تو مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کیجئے یا اِسے اپنے براؤزر میں لکھ کر کھولئے http://www.pkblogs.com/iftikharajmal.blogspot.com
میرا دوسرا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے یا اِسے اپنے براؤزر میں لکھ کر کھولئے http://www.pkblogs.com/hypocrisythyname.blogspot.com
بلاگ کھُل جائے تو تبصرہ کیلئے تبصرہ کا لنک کاپی کیجئے۔ رائٹ کلک کرکے کاپی لنک لوکیشن منتخب کیجئے پھر اپنے براؤسر کی ایڈریس بار میں پیسٹ کیجئے ۔

2 Comments:

At 4/05/2006 11:38:00 AM, Blogger urdudaaN said...

محترم!
یہ طمطراق والی بات مشرق کا خاصّہ ھے۔ :)
فقرہ روداد صحیح ھوگا یا روئیداد (روئے داد) ؟

 
At 4/05/2006 04:15:00 PM, Blogger iabhopal said...

اُردودان صاحب
شکریہ ۔ آپ نے صحیح فرمایا ۔ غَلَطی تھی لکھ کر دُہرایا نہیں تھا ۔ ایک اور غَلِطی عبارت میں بھی تھی ۔ دونوں ٹھیک کر دی ہیں ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home