Wednesday, August 30, 2006

بلوچستان آپريشن اور وسيع تر مشرقِ وُسطٰی کا منصوبہ

28 اگست سے بلاگسپاٹ پھر نہيں کھُل رہا ۔ يہ تحرير پڑھنے کيلئے مندرجہ ذيل رابطہ پر کلِک کيجئے يا اسے اپنے چرند [Browser] ميں لکھ کر کھولئے
.
امريکہ کے صدر بُش نے کئی بار مشرقِ وُسطٰی کے وسيع تر منصوبہ [Greater Middle East Plan] کا ذکر کيا ہے ليکن اس کی تفصيل کبھی بيان نہيں کی ۔ اِسی سال جون ميں امريکہ کی مسلحہ افواج کے رسالے [Armed Forces Journal] ميں رالف پيٹرز [Ralph Peters] کا لکھا ہوا ايک مضمون شائع ہوا جس کی حال ہی ميں مشہوری ہو جانے کے بعد امريکی حکومت نے اسے ايک شخص کا ذاتی خيال قرار دے کر اس سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ليکن آخر ايسا خيال پيدا کيوں ہوا اور پھر اسے مسلح افواج کے رسالے ميں کيوں چھاپا گيا ۔ دراصل آجکل يہ فنِ حرب ہے کہ پہلے غيرمعروف طريقہ سے منصوبہ پھيلاؤ ۔ اس کے دو مقاصد ہوتے ہيں ۔ ايک يہ کہ ردِعمل معلوم کر کے اُس کے مطابق تياری کی جائے اور دوسرے جب لوگ منصوبہ سے مانوس ہو جاتے ہيں تو درِعمل دھيما پڑ جاتا ہے اور منصوبہ پر عمل کرنے ميں آسانی رہتی ہے ۔ اس مضمون سے واضح ہو گيا ہے کہ بُش کا گريٹر مڈل ايسٹ پلان کيا ہے ۔ متذکرہ مضمون کو پڑھنے پر يوں لگتا ہے کہ نہ صرف افغانستان اور عراق پر قبضہ اور ايران کو بار بار تڑی لگانا امريکہ کے اسی مقصد کی تکميل کی ايک کڑی ہے بلکہ بلوچستان ميں آرمی آپريشن بھی اسی منصوبہ کا حصہ ہيں اور بُش مسلمان ممالک کے بيوقوف اور خودغرض حکمرانوں سے اپنے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنوا رہا ہے ۔ بلوچستان ميں آرمی آپريشن کے ذريعہ بلوچوں کو بغاوت پر اُکسا کر مشرقی پاکستان جيسے حالات پيدا کرنا تا کہ بيرونی مداخلت کا جواز پيدا ہو سکے اور پھر بُش اپنے ناپاک منصوبے کو عملی جامہ پہنائے قرينِ قياس لگتا ہے ۔ مجوّزہ منصوبہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کو غيرفطری قرار ديا گيا ہے ۔ منصوبہ کے مطابق پاکستان صرف پنجاب اور کراچی پر مشتمل رہ جائے گا ۔ بلوچستان ۔ سندھ کے قبائل کے علاقے اور ايران کے بلوچ علاقے کو ملا کر ايک نئی سلطنت بلوچستان بنائی جائے گی اور صوبہ سرحد افغانستان ميں شامل کر ديا جائے گا ۔ منصوبہ کے مطابق سرزمينِ حجاز کو بين الاقوامی متبرک علاقہ بنا ديا جائے گا ۔ سعودی عرب کا کافی زيادہ علاقہ اور متحدہ عرب عمارات کا کچھ علاقہ چھين کر ايک يا کئی قبائلی سلطنتيں بنا دی جائيں گی يعنی شاھ سعود سے پہلے کی حالت جب قبيلوں کی بنياد پر عرب چھوٹی چھوٹی رياستوں ميں بٹا ہوا تھا اور شاہ سعود کے خاندان کی رياض اور گرد و نواح ميں حکومت تھی ۔ سعودی عرب صرف رياض اور گرد کے تھوڑے علاقہ پر مُشتمل ہو گا ۔ عراق کو دو حصوں ميں تقسيم کر کے سُنّی علاقہ اور تُرکی کے کُرد علاقہ ميں کُرد سلطنت اور باقی ميں سعودی عرب کا شيعہ علاقہ اور ايران کا مغربی ساحل ملا کر ايک نئی شيعہ سلطنت بنائی جائے گی جو ايران کی مخالف ہو گی ۔ کويت ۔ دبئی ۔ قطر ۔ اومان اور اسرائيل کو اپنی اصلی حالت ميں رکھا جائے گا باقی مصر کے مشرق سے لے کر بھارت کے مغرب تک اور يورپ کے جنوب سے لے کر اومان کے شمال تک سب ملک متاءثر ہوں گے ۔ اس منصوبہ کے مطابق عرب شيعہ مملکت ۔ آزاد بلوچستان اورکُردستان نئے ممالک بنائے جائيں گے
افغانستان ۔ آرمينيہ ۔ آذربائيجان ۔ اُردن ۔ لبنان اور يمن جتنے اب ہيں اس سے بڑے ہو جائيں گے
عراق ۔ تُرکی ۔ فلسطين ۔ ابوظہبی اور شام کا رقبہ کم ہو جائے گا اور سعودی عرب اور پاکستان بالکل چھوٹے رہ جائيں گے متذکرہ منصوبہ مندرجہ ذيل نقشوں سے واضح ہے
۔
موجودہ نقشہ

۔
۔
۔
۔
۔
۔ مجوّزہ بہتر مشرقِ وسطٰی کا نقشہ

مغرب کی چکا چوند سے آنکھيں مُوند کر مدہوش ہونے والو ۔ اپنی آنکھيں کھولو اور اپنے دماغوں کی تطہير کراؤ ۔ اُٹھو کہ زمانہ چال قيامت کی چل گيا ۔ يہ مُلک نہ رہا تو تم کہاں رہو گے ؟ کوئی پناہ نہ دے گا ۔ صرف سمندر ميں يا جہنم کی آگ ميں پناہ ملے گی

يا رب دلِ مُسلم کو وہ زندہ تمنّا دے

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

* ميری يہ مواصلاتی بياض [Blog] مندرجہ ذیل رابطہ پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے چرِند [browser] ميں لکھ کر بھی پڑھ سکتے ہيں http://iftikharajmal.wordpress.com میری انگريزی کی مواصلاتی بياض یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔ Hypocrisy Thy Name مندرجہ ذیل روابط ميں سے کسی ايک پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے چرِند ميں لکھ کر پڑھيئے ۔ http://hypocrisythyname.blogspot.com http://iabhopal.wordpress.com

27 Comments:

At 8/30/2006 08:45:00 AM, Anonymous Anonymous said...

Aapka masla yeh hay kay aap ki door ki nigah to bari taiz hay laikin qareeb ki nigah bohat kamzor hay,aap saray Pakistan or umate muslima ko ikatha karnay ki baat kartay hain aap to aik hi sobay say taluq rakhnay walay chand log bhi mil kar na chal sakay,
Pakistan kay qaaim rahnay ka sirf or sirf aik hi hal hay sobon ko mukamal khodmukhtari dena or un kay mamlat main Foj or Panjab stablishmint ka involvment band hona,

 
At 8/30/2006 11:13:00 AM, Blogger iabhopal said...

غير معروف صاحب
اصولی طور پر گمنام خط يا تبصرہ جواب يا عمل درآمد کا حق نہيں رکھتا ۔ دوسرے حق کہنے والا سوائے اللہ کے کسی اور سے نہيں ڈرتا اور آپ ميں مُجھ کمزور کے سامنے آنے کی سکت نہيں اور بات اتنی اُونچی کرتے ہيں ۔

آپ کے علم کيلئے عرض کر دوں کہ يہ مضمون ايک خاص حوالے سے لکھا گيا ہے جس کا تعلق بين الاقوامی اور قومی معاملات سے ہے نہ کہ صوبائی معاملات سے ۔

پاکستان کے قائم رہنے کی جو شرط آپ نے بتائی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو اس بات کا ادراک ہی نہيں کہ آپ کہہ کيا رہے ہيں ۔ مکمل خود مُختاری اُسے کہتے ہيں جو اُنسٹھ سال قبل بھارت اور پاکستان کو دی گئی تھی اور جو بھارت کی سازباز اور پاکستان کے نا اہل سياستدانوں اور جرنيلوں کی غلط سوچ اور کاروائيوں کے نتيجہ ميں دسمبر 1971 ميں مشرقی پاکستان کو ملی پھر وہ پاکستان نہيں رہا بلکہ بنگلہ ديش بن گيا ۔

فوج ميں کوئی خرابی نہيں مسئلہ جرنيلوں کا ہے اور وہ جو کچھ باقی صوبوں کيلئے ہے وہی پنجاب کيلئے ہے ۔ فوج کا عمل دخل نہ تو سياست ميں ہونا چاہيئے نہ مُلکی انتظامی امور ميں ۔ اُنيں تمام تر توجہ مُلک کے دفاع کو دينا چاھيئے ۔

پنجاب کی انتظاميہ [ايسٹيبلشمنٹ] پورے پاکستان کی انتظاميہ کا حصہ ہے ۔ يہ سب ايک ہی تھيلی کے بٹے ہيں چاہے کوئی بھی صوبہ ہو ۔

آپ تھوڑی سی تکليف کريں اور کچھ عرصہ کيلئے پنجاب ميں رہائش اختيار کريں لاہور ۔ اسلام آباد يا راولپنڈی کے اميروں کے علاقہ ميں نہيں ۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ حکومت جتنا ظُلم پنجاب کے عوام کے ساتھ کر رہی ہے اُتنا دوسرے صوبوں کے عوام کے ساتھ نہيں ہو رہا کيونکہ باقی صوبوں ميں مقامی حکمران اپنے صوبے کے عوام کا کچھ نا کچھ خيال رکھتے ہيں مگر پنجاب کی حکومت بھی وڈيروں اور جرنيلوں کے ہاتھ ميں ہے اسلئے آپ حُکمرانوں اور وڈيروں کی عياشياں پنجاب کے عوام کے سر نہ باندھيں ۔

اگر آپ نے ميری اس بياض کا کچھ مطالع کيا ہوتا تو آپ ميری نزديک کی نظر کمزور نہ کہتے اور مُجھے پنجابی نہ فرض کرتے ۔

 
At 8/31/2006 12:17:00 AM, Anonymous Anonymous said...

Baba ji kuj aqal no hath maro,
mainay aam panjabi ki baat kab ki hay main bhi to stablishment ki baat karaha hoon,sobaai khodmukhtari or mulki khod mukhtari main jo farq hota hay woh aap ko maloom naheen ya jaan kar anjaan bannay ki ada hay,73 kay aaine main bhi sobon ki khodmukhtari ka zikr mojod hay,panjab kay awam kay masaail ka hal bhi yahi hay kay panjab kay 3,4 sobay bana diay jaain balkay poray pakistan main barabri ki bunyaad par sobay banain jaain or sab ko apnay androni mamlat sanbhalnay diay jaain foj or panjabi jageerdaar madakhlat band kardain,nainsafi hi mahromion or phir nafratoon ko janam deti hay kuj aai samajh baba ji,

 
At 8/31/2006 01:28:00 AM, Blogger Khawar said...

بهائی اینی وّن آپ تو کافی تپے هوئے ہو ـ
یار میں ایک خالص پنجابی هوں
ویسے مندا بول لو پر ہمیں جرنیلوں کے ساتھ رکھ کر ہماري توہین تو نه کرو ـ
یار میں تو ڈر کے مارے اپنے کسي کهوتے کو جرنیل نہیں گہتا که دولتي نه مار دے ـ
پاکستان پر قابض فوج کو آپ پنجابی سمجھ رهے هو ؟
یار یه مشرف صاحب بهي تو اردو سپیک ہیں ناں ؟
ضیاء صاحب بهي اردو سپیک تهے ناں؟
عیوب ایک پٹهان تها ناں؟
پنجابي تو خود ڈسا ہوا هے ـ
آپ کے پته هے که پنجاب میں چهوٹی ذات کا ہونا کتنا مشکل هے ؟
میں کڑوڑ پتی بهی هو جاؤں میرے بیٹے کو ایجی سن کالج میں داخله نہیں مل سکتا ـ
سارے بهائي پنجاب کے شکوے کر کے اپنے دل کا غبار نکال لیتے هو
یار کوئی پنجاب کے دکھ بهی محسوس کرے گا ؟

 
At 8/31/2006 09:58:00 AM, Blogger iabhopal said...

غير معروف صاحب
پہلے آپ نے مکمل خود مختاری لکھا تھا اب صوبائی خود مختاری لکھا ہے جو اندرونی خود مختاری ہوتی ہے ۔ اندرونی خود مختاری کے حق ميں ميں کئی سال قبل قومی کثيرالاشاعت اخبارات ميں لکھتا رہا ہوں ليکن آپ نے تو صرف اپنی ہانکنے کی ٹھان رکھی ہے وہ بھی ايک غلط حوالے سے ۔

آج تک جن لوگوں نے پاکستان پر حکومت کی وہ يہ ہيں ۔ لياقت علی سندہ چار سال ۔ ناظم الدين مشرقی پاکستان دو سال ۔ محمد علی بوگرہ مشرقی پاکستان دو سال ۔ چوہدری محمد علی پنجاب ايک سال ۔ سہروردی مشرقی پاکستان ايک سال ۔ چندريگر اور فيروز خان نون سندھ ايک سال ۔جنرل ايوب خان سرحد گيارہ سال ۔ جنرل يحیٰ خان سرحد تين سال ۔ ذوالفقار علی بھٹو سندھ ساڑھے پانچ سال ۔ جنرل ضياء الحق سرحد گيارہ سال ۔ محمد خان جونيجو سندھ ڈھائی سال ۔ غلام مصطفٰے جتوئی سندھ چھ ماہ ۔ بے نظير بھٹو سندھ پانچ سال دو ماہ ۔ نواز شريف پنجاب ساڑھے پانچ سال ۔ جنرل پرويز مشرف سندھ چھ سال دس ماہ ۔

حُکمرانی کا خُلاصہ يہ ہے ۔ سندھی چھبيس سال بشمول موجودہ جرنيل کے چھ سال دس ماہ ۔ سرحدی جرنيل پچيس سال ۔ پنجاب چھ سال ۔ مشرقی پاکستان بنگلہ ديش بننے سے پہلے پانچ سال ۔ بلوچستان پانچ ہفتے ۔ جمالی بلوچ اور سندھ کے امريکن شوکت عزيز کو شُمار نہيں کيا کيونکہ اُن کے اختيار ميں کچھ نہيں ۔

آپ اور آپ جيسے دوسرے کوتاہ انديش پنجاب کا رونا روتے رہتے ہيں ۔ مجيب رحمٰن بھی بھارت کی شہ پر پنجاب کا رونا رو رو کر بنگاليوں کو گمراہ کرتا رہا ۔ پھر بھی اگر اس سازش ميں سندہ کا ذوالفقار علی بھٹو شامل نہ ہوتا تو لاکھوں بنگاليوں کے دستخطوں سے آئی ہوئی ياد داشت کہ بنگلہ ديش منظور نہ کيا جائے کے باوجود اُس وقت کا صدر اور چيف مارشل لاء ايڈمنسٹريٹر ذوالفقار علی بھٹو بنگلہ ديش منظور کا نعرہ نہ لگاتا ۔ اُدھر تم اِدھر ہم کا نعرہ لگانے والا اور اقوامِ متحدہ ميں مشرقی پاکستان ميں جنگ بندی کی قرارداد پھاڑنے والا بھی ذوالفقار علی بھٹو ہی تھا ۔ ليکن گالی آپ پنجاب کو ديتے ہيں ۔

پنجاب کے ٹکڑے کرنے کی خواہش محض آپ کے بُغض کا نتيجہ ہے اس کا فائدہ کسی صوبے کو نہيں پہنچے گا بلکہ اُلٹا نقصان ہو گا ۔ آپ کا طرزِ تخاطب بھی آپ کے بُض کی دليل ہے ۔ آپ کے بُغض پالنے کا ايک ثبوت يہ بھی ہے کہ گمنام رہ کر اوچھے وار کر رہے ہيں ۔

 
At 8/31/2006 10:09:00 AM, Blogger iabhopal said...

خاور صاحب
آپ نے ٹھيک کہا مگر کچھ لوگ عقل کے پيچھے ڈنڈا لے کر پھرتے ہيں کہ کہيں اپنے دماغ ميں نہ گھُس جائے ۔ اللہ مُسلمانوں کو اور بالخصوص پاکستانيوں کو عقلِ سليم عطا فرمائے

 
At 8/31/2006 04:38:00 PM, Anonymous Anonymous said...

Khawar praji tusi kion dil par laytay ho,o janab aap to awaam main say ho mainay bhi jageerdaron or foj ki hi baat ki hay or foj sab jantay hain kay sirf gernal or karnal hain,Baqi hokomat kisi nay bhi ki ho aay to sab in hi dono kay kandhon par sawaar ho kar or jo lata hay woh apna hi kaam nikalta hay,or Mr Ajmal babaji kahnay main kia buraai hay? aap burucraci kay numaainda hain is liay aap say aisi hi baat ki umeed ki jasakti hay kay mazeed sobay na banaay jaain,is main kia nuqsan hay zara hum kam aqlon ko bhi bata dain to inayat hogi,kion kay aisay kam aqlon ki aik bohat bari tadaad is mulk main mojod hay,
waisay is umar main bhi aap ki nazar bari taiz hay kay aap ko meray likhay main gali bhi nazar aagai,
woh baat jis ka fasanay main koi zikr na tha
woh baat unko bohat nagawar guzri hay,
panjabi awaam bhi qusoorwar hain woh kion aisay logon ko vote daytay hain?
jo halat haim un main to lagta hay kay ya to foj poray pakistan kay awaam ko khatam karkay panjabistan bana day gi ya phir baqool aap kay pakistan main say sirf panjab baqi rah jaay ga,khuda na khowasta,

 
At 8/31/2006 05:00:00 PM, Anonymous Anonymous said...

bureaucracy,

 
At 8/31/2006 06:56:00 PM, Anonymous Anonymous said...

for your kind information Mr zia ul haq belongs to jalindhar,
raha musharaf to woh to aik puppet hay jis ki dorian panjab say taluq rakhnay walay general or karnal hila rahay hain,bhuto par ilzam hay pakistan tornay ka warna darhaqeeqat foj pahlay hi faisla kar chuki thi Mashriqi pakistan say chutkaray ka,
Aube khan pathan tha to darul khilafa panjab kay bajaay sarhad kion na lay gaya,

 
At 9/01/2006 07:14:00 AM, Blogger iabhopal said...

غير معروف صاحب
باتيں آپ بہت بناتے ہيں ليکن عمل کی حالت يہ ہے کہ آپ اتنا بھی نہيں کر سکتے کہ اْوردو کو اُردو رسم الخط ميں لکھيں ۔

 
At 9/01/2006 06:19:00 PM, Anonymous Anonymous said...

Mr ajmal batain to aap bhi bohat banatay hain balkay sirf batain hi banatay hain meray rasm ul khat ko paray rakhain or yeh bataain kay meri baatain sach hain ya jhot(eemaan kay sath)

 
At 9/02/2006 07:13:00 AM, Blogger iabhopal said...

اُردو رسم الخط کو ايک طرف رہنے ديں کيونکہ وہ آپ کی خامی ہے ۔ آپ گمنام رہ کر جو دل ميں آئے لکھتے رہيں اس کی بھی بات نہ کريں کيونکہ يہ بھی آپ کی خامی ہے ۔ صرف آپ کی ہاں ميں ہاں ملاتے جائيں ۔ يہ منطق وڈيروں کی ہوتی ہے يا پھر جاہلوں کی ۔ آپ خود تو وہ کام بھی نہيں کر سکتے جو سکول کے بچے کر ليتے ہيں اور چاہتے ہيں دوسرے لوگ پاکستان کی حالت بدل ديں اور وہ بھی اُس صوبے کے ٹکڑے کر کے جو آپ کو پسند نہيں ۔ آپ کی باتيں بُغض ميں لپٹی ہوئی ہيں ۔ بُغض کو صاف کريں تو ان کی اصليت دکھائی دے ۔

 
At 9/02/2006 04:13:00 PM, Anonymous Anonymous said...

Mr ajmal mujhay aap say aisay hi aain baain shaain jawab ki umeed thi or aap nay mujhay mayoos naheen kia,ha, ha ,ha,
aap jaisay log dosron ki aankh ka tinka bhi dhond laitay hain magar apni aankh ka shteer bhi nazar naheen aata,
aap jaisay khod pasand logon ka aik hi masla hota hay aap ki nazar main sirf aap hi sahi hotay hain baqi sari dunia galat,ikhtilafe raay bardasht karnay ki aap ko aadat naheen or kaj bahsi main aap say koi muqabla naheen karsakta,
maray seedhay say sawal ka jawab na ban para to yeh tomaar likh mara,main baat urdu main karon ya roman urdu main baat to wahi rahay gi ya us ka mafhoom badal jaay ga,
raha panjab to woh to pahlay hi zaat bradrion main itna bata howa hay, isi ka faaida to aap kay bhai band yani jageer dar or general karnal utha rahay hain,

 
At 9/02/2006 06:27:00 PM, Blogger جہانزیب said...

نامعلوم صاحب آپ نے ملک کی ترقی کا ایک فارمولا تو بتا دیا کہ پنجاب کے تین چار صوبے بنا دیے جایئں، اگر چھوٹے صوبے بنانے میں ھی ترقی ہے تو باقی صوبوں کے چھوٹے چھوٹے حصے کیوں نہ کئے جایئں؟ بلکھ ھر میونسپلٹی کو خود مختار کر دیا جائے اور صوبوں کو ختم ھی کر دیا جائے اس سے انتظامی امور میں اور زیادھ آسانی ھو گی، آپ جو کچھ صرف پنجاب کے حوالے سے کہہ رہے ہیں وہ سراسر تعصب کے زمرھ میں آتا ھے، ایک طرف تو آپ جنریلوں کی اور اسٹبلشمنٹ کے خلاف بات کر رھے ھیں لیکن خود نام نہاد سرداروں اور وڈیروں کے ایجنڈہ کو آگے بڑھا رہے ہیں، میرے بہائي بجائے صرف وڈیروں کی اور نام نہاد قوم پرستوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے وسطی اور بالائی پنجاب بلکھ یہی پنجاب کا وہ حصے ہیں جن سے سب جلتے ہیں ان کی ترقی پر غور کریں جہاں چودھراہٹ کا ایک عرصہ سے خاتمہ ہو چکا ہے، کوئی چودھری نجی جیلیں یا ذاتی فوج بنا کر نہیں بیٹھا ہوا ہے، ان وڈیروں اور سرادروں سے ان کے نقص قدم پر چلتے ہوئے چھٹکارا پا لیں تو انشااللہ ویسے ہی سب ترقی کریں گے جیسے ترقی پنجابیوں نے کی ہے، بجائے کسی کی محنت سے جلنے کے اگر ویسی ہی محنت کریں تو یہ زیادہ بہتر ہے

 
At 9/03/2006 01:12:00 AM, Anonymous Anonymous said...

Jahanzaib maynay aap ki tahareer parhi hain or main aap ko khasa samajhdaar insaan samajhta tha,aap nay shaaid meri tahreer ko gor say naheen parha maynay saaf saaf likha hay panjab kay 3,4 sobay bana diay jaain balkay poray pakistan main barabrri ki bunyaad par sobay banaay jaai,(zahmat na ho to dobara parhlain)
masla yeh hay kay panjab ka naam aatay hi aap logon ki aqal ko kuch hojata hay or samnay ki baat bhi dikhaai or sunaai naheen deti,mazeed sobay or sobaai khod mukhtari hi hal hay warna phir sirf panjab ko hi lay kar pakistan zinda baad kia kijiay ga(khuda na khowasta)
waisay aisay misali ilaqay panjab main kon kon say hain chand kay naam humain bhi bata dain jin ka aap nay zikr kia hay,

 
At 9/03/2006 01:53:00 AM, Blogger جہانزیب said...

آپ کا بہت شکریہ کہ آپ اب مجھے ایک سمجھ دار انسان نہیں سمجھتے ہیں۔ آپ کی بات میں نے غور سے ہی پڑھی تھی کہ برابری کی بنیاد پر چھوٹے صوبے بنا دیے جانے چاہیے ہیں، لیکن اُس میں خصوصی طور پر پنجاب کا ذکر کیا گیا ہے، میرے بھائی میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ اس طرح چھوٹی سطح پر اختیارات دینے سے آسانی ہوگی لیکن میں اس سوچ کو نہیں مانتا جس میں ایک طرف تو راگ الاپنے والے کہ پنجاب میں چھوٹے صوبے بنانے چاہیے دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کو کسی اور صوبے میں شامل کرنا چاہتے ہیں، میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں بھی کہا ہے کہ زیادہ بہتر ہے بجائے صوبوں کے میونسپلٹی کو خود محتار کر دیا جائے، لیکن اس میں پنجاب سے زیادہ دوسروں کو اختلاف ہوگا، سندھ کراچی اور حیدرآباد کی خود مختاری کے بعد کیا کرے گا؟
اور جہاں تک بات رہ گئی اُن مثالی علاقوں کی نشاندہی کی تو اُن قوم پرست لیڈران سے پوچھنا زیادہ بہتر ہے جو پنجاب کی ترقی کا عوام کو بتا بتا کر گمراہ کرتے ہیں، پنجاب کی سب سے بڑی ترقی یہی ہے کہ پنجاب میں چودھری کو سندھ میں وڈیرہ اور بلوچستان میں سردار یا نواب کی طرح داتا نہیں سمجھا جاتا ہے۔

 
At 9/03/2006 07:57:00 AM, Blogger iabhopal said...

غيرمعروف صاحب
آپ کی سب باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا دماغ وڈيروں کی روٹياں کھا کھا کر يا غريبوں کا مال لُوٹ لُوٹ کر خراب ہو چکا ہے ۔ يا تو آپ وڈيروں ميں سے ہيں يا وڈيروں کے غلام ہيں ۔ اسلئے آپ اُول فُول بکتے جا رہے ہيں اور اُسی پر اِسرار کر رہے ہيں ۔ آپ اُنہی ميں سے ايک ہيں جو سامنے نہيں آتے اور دوسروں پر چھُپ کر وار کرتے ہيں ۔ آپ جيسے بزدل اور بے عمل لوگ پردے کے پيچھے کھڑے ہی بک بک کر سکتے ہيں اور کريں بھی کيا ۔ بات ميں کوئی حقيقت ہو تو سامنے آئيں ۔ شائد آپ جيسوں کے حوالہ سے ہی مسلمانوں پر سورت الکافرون اُتری تھی ۔ چنانچہ آپ کيلئے آپ کا دين اور ميرے لئے ميرا دين ۔ ميں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شيطان مردود اور اُس کے فتنہ سے ۔

 
At 9/03/2006 07:44:00 PM, Anonymous Anonymous said...

Mr ajmal jab koi dalaail ka jawab dlail say naheen day pata to isi tarah samnay walay ko jahil or kafir kahna shro kardayta hay,agar main Allah wadahu lashareek ki qasam kha kar aap ko yaqeen dilaoon kay main aik panjwaqta namazi or us kay karam say tahajud guzar insan hoon to kia phir aap meri batoon ko darkhore aatana samjhain gay?
aap sahiban ki itila kay liay arz hay kay main wadiron sardaron or khano ka bhi utna hi dushman hoon jitna jageer daraon ka,hairan kun baat yeh hay kay aap dono hazraat wadairon or sardaroon ko to musalsal bura kah rahay hain laikin jageerdaron ka naam zuban par aatay shaaid zuban jalti hay ya phir aap bhi unhi main say to naheen?
jahanzaib aap bhi khasay confuse hain kabhi kahtay hain panjab taraqi karrahay kabhi kahtay hain naheen is galat fahmi say bahar nikal aain kay panjab kay zameendar sindh kay wadairon baluchistan kay sardaroon or sarhad kay khano say kam zalim hain,
mari is sarri bakwas kay peechay woh dard chupa hay jo aap jaison ko nazar naheen aata,71 ka gam meri zindagi ka woh gam hay jo aaj bhi meri roh ko zakhmi kiay howay hay main darta hoon kay kaheen phir wahi tareekh duhraai na jaay,Allah na karay kay meri zindagi main aisa koi din aay,aameen,
kaash kay aap baray sobay walay is baat ko jald hi samajh lain kay NAINSAFI MAHROMION KO OR MAHROMI NAFRATOON KO JANAM DETI HAY,

 
At 9/04/2006 10:39:00 AM, Blogger iabhopal said...

غيرمعروف صاحب
بہت اچھی بات ہے کہ آپ صلٓوةِ خمسہ کے علاوہ تہجد کے بھی پابند ہيں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ کی کُل عبادات قبول فرمائے اور اُس کا کئی گُنا منافع کے ساتھ اجر عنائت فرمائے ۔ ميرے لئے بھی دُعائے خير کيا کيجئے ۔ يہاں ميں يہ عرض کر دوں کہ عبادت انسان اپنی بہتری کيلئے کرتا ہے دوسرے انسانوں کو متاءثر کرنے کيلئے نہيں ۔ خاص طور پر تہجد اور صلٰوة تسبيح خفيہ طور پر پڑی جاتی ہيں ۔ آئندہ اس بات کا خيال رکھيئے ۔

قسم اُٹھانا يا کھانا نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ عليہ و سلّم نے بلکہ اللہ تعالٰی نے بھی پسند نہيں فرمايا ۔ ميں نے شروع ہی سے آپ کی ہر بات کو غور سے پڑھ کر اُس کا جواب لکھا ۔ آپ سب کچھ بغير دليل کے لکھتے رہے اور بظاہر وہ جذباتی صورتِ حال تھی اسلئے متفق ہونا قرينِ قياس نہ تھا ۔ جاکير داروں کو ہی وڈيرہ يا سردار وغيرہ کہا جاتا ہے ۔ بغير جاکير کے وڈيرہ نہيں بنتا اور يہ سب جاگيريں يا تو قوم سے غداری کے صلے ميں مليں يا پھر پھر ناجائز قبضہ سے بنائی گئيں ۔ يہ آپ نے کيسے فرض کر ليا کہ ميں جاگيرداروں کا حامی ہوں ؟ ميں نے آپ کی توجہ اپنی پچھلی تحارير کی طرف دلائی مگر آپ نے معقول نہ سمجھا ۔ ميں ان جاگيرداروں کی اصليت واضح کر چکا ہو اور بار بار دہرانا اچھا نہيں ہوتا ۔

اب آپ نے ايک کام کی بات کی ہے يعنی 1971 کا سانحہ ۔ مشرقی پاکستان توڑنے ميں تين فرد اور تين اداروں کا کردار اہم ہے ۔ اندرا گاندھی ۔ مجيب الرحمٰن ۔ ذولفقار علی بھٹو ۔ بارت کی خفيہ ايجنسی را ۔ پاکستان کی بيوروکريسی کے عياش افسر اور پاکستان کے عياش جرنيل ۔ بہرحال آپ صرف ايک غم کی بات کرتے ہيں اپنا تو سينہ چھلنی ہو چکا اور سمجھ نہيں آتا کہ کسی واقعہ کو زيادہ اہميت دی جائے ۔ جموں کشمير ۔ فلسطين ۔ مشرقی پاکستان ۔ افغانستان ۔ شيشان جسے چيچنيا کہتے ہيں ۔ عراق ۔ پاکستان ميں وزيرستان اور کسی حد تک بلوچستان ۔ مندرجہ ذيل صفحات کھول کر پڑھيئے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ميں خالص ذاتی طور پر کيا جھيل چکا ہوں ۔ اگر آپ کے پاس زيادہ وقت نہ ہو تو پہلے مضمون کو ماؤنٹ بيٹن کی بھارت نوازی سے اور دوسرے مضمون کو دی ہيٹريڈ سے اور تيسرا مضمون شروع سے پڑھيئے ۔
http://iftikharajmal.wordpress.com/تحریک-آزادی-جموں-کشمیر
https://iabhopal.wordpress.com/my-life-and-experiences-part-1
https://iabhopal.wordpress.com/first-20-years-in-pakistan

ہمارے مُلک ميں نفرتوں کے بِيج غيرملکی امداد پر پَلنے والے جاگيرداراور نااہل سياستدانوں ۔ جاگيردار اور نااہل جرنيلوں اور جاگيردار اور نااہل بيوروکريٹس نے بوئے ۔ اس کی آبياری بھی وہی کر رہے ہيں۔ وطن کے لوگوں کو ٹکڑوں ميں تقسيم کر کے ان پر حکومت کرتے رہنا انہی کی منطق ہے اسلئے ان وطن دُشمن لُٹيروں کا مقابلہ کرنے کيلئے صوبوں کو توڑنے کی نہيں بلکہ سب پاکستانيوں کے مُتحد ہو کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔

 
At 9/04/2006 04:15:00 PM, Blogger iabhopal said...

غير معروف صاحب
اتفاق سے ايک متعلقہ مضمون آج اخبار ميں چھپا ہے ۔ اسے ضرور پڑھئے ۔ حوالہ يہ ہے
http://nawaiwaqt.com.pk/urdu/daily/sep-2006/04/columns3.php

 
At 9/04/2006 06:06:00 PM, Anonymous Anonymous said...

aap nay kaha kay ibadat khufia hona chahian main to khud hi khufia hoon,ibadaat ka zikr or qasam ki majbori yahi thi kay aap logon ko is kay bagair maray kahay ka yaqeen naheen araha,
aap maanain ya na maanain mulk main barabri ki bunyaad par sobay taqseem hoon gay to in jageerdaron wadairon sardaron ki ijaradari kam ho gi or dosray sobon ko bhi itminan hoga kay panjab apnay baray honay ka faida naheen utha raha,
filhaal panjab kay log yeh to kar hi saktay hain kay aisay watan dushman or gadaron ko vote na dain or khod apni qayadat apnon main say samnay laain,

 
At 9/05/2006 07:26:00 AM, Blogger iabhopal said...

غير معروف صاحب
آپ کی سوئی پنجاب کے ٹکڑے کرنے پر اٹکی ہوئی ہے اور آپ کسی کی کوئی بات سننے کو تيار نہيں ۔ پہلے آپ يہ تو بتائيں کہ کيا سندھ اور بلوچستان ميں حکومتيں عوام کی فلاح و بہبود کر رہی ہيں ؟ بارش ميں سندھ کے سب سے زيادہ ترقی يافتہ شہر کراچی کا جو حال ہوا کيا يہ اچھی حکمرانی ثابت کرتا ہے ۔ صرف کراچی ميں روزانہ دن دہاڑے پچاس ساٹھ موبائل فون اور بيس تيس گاڑياں چھين لی جاتی ہيں اور دو چار انسان مار ديئے جاتے ہيں ۔ يہ اچھی حکوت کی اوصاف ہيں ؟ بلوچستان کو ہر سال جو ڈويلوپمنٹ فنڈز ديئے جاتے ہيں کيا اُس کا زيادہ حصہ وہاں کے سرداروں کی جيب ميں نہيں جاتا ؟ اگر سندھ اور بلوچستان ميں نمائندہ حکومت ہے تو اس کا يہ مطلب ہوا کے سندھ اور بلوچستان کے عوام بھی لُٹيرے ۔ ڈاکو اور قاتل لوگ ہيں ۔ يا کيا سندھ اور بلوچستان ميں يہ سب کچھ پنجاب کر رہا ہے ۔

دوسرا پہلو ۔ پہلے ہی دو ہزار سے زائد ارکانِ پارليمنٹ پاکستان کے عوام کا خُون چُوس رہے ہيں ۔ آپ چاہتے ہيں کہ سات آٹھ صوبائی اسمبلياں بن جائيں اور ارکان پارليمنٹ کی تعداد بڑھ کر تين يا چار ہزار ہو جائے تاکہ وہ عوام کا گوشت بھی کھا جائيں ؟

قرآن شريف ميں ہے کہ جبرائيل عليہ السلام کو اللہ سُبحانُہُ کی طرف سے حُکم ہوا کہ فلاں بستی کو تباہ کر ديا جا ئے ۔ جبرائيل عليہ السلام نے عرض کيا کہ اُس بستی ميں ايک شخص ہے جو دن رات آپ کی عبادت ميں مصروف رہتا ہے ۔ حُکم ہوا کہ ہاں اُس سميت تباہ کر ديا جائے اُس کی عبادت کا کيا فائدہ جب اُس کے اردگرد کُفر اور ظُلم کا بازار گرم ہے اور وہ اُن کو روکنے کی کوشش بھی نہيں کرتا۔

جناب ۔ ہماری قوم جسے سندھ اور بلوچستان کے وڈيرے يا سردار قوميں کہتے ہيں ان کا الميہ يہ ہے کہ اکثريت اللہ سے ڈرنے کی بجائے انسانوں کی تابعدار ہے ۔ کچھ آپ کی طرح عبادت گذار ہيں اور اپنے لوگوں کو بہتر کرنے کی بجائے دوسروں کا بيڑا غرق کرنا چاہتے ہيں ۔ اس مُلک ميں تھوڑے سے اللہ سے ڈرنے والے ہيں وہ تخت و تاج سے بے پرواہ لوگوں ميں اسلام کی تدريس پھيلا رہے ہيں ۔ ظُلم کی انتہاء يہ ہے کہ پہلے سندھ ميں حکيم سعيد جيسے عوام کے خدمتگاروں اور مولانا شامزئی جيسے دين کے عالموں کو ہلاک کيا گيا پھر يہ کھيل پنجاب ميں بھی کھيلا گيا اور جيّد عالمِ دين پروفيسر غلام مرتضٰے ملک کو ہلاک کر ديا گيا ۔

پانچ وقتی نمازی اور تہجد گذار ہوتے ہوئے آپ کو اس بے جا ظُلم کی تو کوئی فکر نہيں اور پنجاب کے ٹکڑے کرنا آپ کا نصبُ العين ہے ۔ کيا آپ کو نمازيں يہی سکھاتی ہيں ؟ اپنے اس مؤقف کے حق ميں آپ کوئی آيت يا کوئی حديث پيش کر سکتے ہيں ؟

 
At 9/14/2006 06:14:00 PM, Blogger urdudaaN said...

جناب، میرے علم میں لفظ مشرقِ وسطٰی ہے۔

 
At 9/14/2006 08:26:00 PM, Blogger iabhopal said...

اُردودان صاحب
آپ نے درست فرمايا ۔ ميں نے ابھی ديکھا کہ ميں نے غلط لکھا ہوا ہے ۔ شکريہ

 
At 10/19/2006 02:58:00 AM, Anonymous زکریا said...

آج کسی اور چکر میں اس مضمون کا ذکر آیا تو پتہ چلا کہ آرمڈ فورسز جرنل فوج کا سرکاری رسالہ نہیں جیسا اس کے نام سے لگتا ہے بلکہ یہ ایک پرائیویٹ کمپنی کی ملکیت ہے جن کا دعوٰی ہے کہ یہ فوج میں مقبول ہے مگر صحیح صورتحال کوئی نہیں جانتا۔

 
At 10/19/2006 06:59:00 AM, Blogger iabhopal said...

زکريا بيٹے

بالکل ٹھيک ۔ يہ حقيقت پچھلے چاليس سال سے ميرے علم ميں ہے ۔ کسی بھی ملک ميں مسلح افواج کا سرکاری رسالہ نہيں ہوتا ليکن جس رسالے ميں حاضر سروس آفيسران کے تحرير کردہ مضامين چھپتے ہيں اُسے اُس ملک کی مسلحہ افواج کا ترجمان سمجھا جاتا ہے ۔ جس مضمون کا ميں نے حوالہ ديا ہے يہ حاضر سروس فوجی آفيسر کا لکھا ہوا ہے ۔ اسلئے اسے ذاتی رائے نہيں کہا جا سکتا ۔

اصول يہ ہے کہ کسی سرکاری ملازم بالخصوص مسلحہ افواج کے افسران کو متعلقہ مجاز اتھارٹی کی پيشگی اجازت کے بغير مضمون يا کتاب چھپوانے کی اجازت نہيں ہوتی ۔ يہ مجاز اتھارٹی وزارتِ دفاع کی مقرر کردہ ايک کميٹی ہوتی ہے جس ميں کم از کم ايک رکن پارليمنٹ ۔ ايک رکن اعلٰی سطح کا فوجی اور ايک وزارتِ دفاع کا اعلٰی سطح کا ملازم ہوتا ہے ۔

پرويز مشرف پہلا ايسا سرکاری ملازم ہے جس نے بغير اجازت اپنی کتاب چھپوائی ہے شائد اسلئے کہ يہ تضادات سے پُر ہے ۔ ايوب خان نے اپنی کتاب فرينڈز ناٹ ماسٹرز چھپوانے سے پہلے متعلقہ کميٹی سے تحريری اجازت حاصل کی تھی حالانکہ وہ فيلڈ مارشل اور صدرارتی نظام کا صدر تھا ۔

 
At 10/19/2006 12:08:00 PM, Anonymous زکریا said...

حاضر سروس کے بارے میں آپ صحیح کہہ رہے ہیں مگر رالف پیٹرز حاضر سروس نہیں ہے بلکہ ریٹائرڈ ہے۔ اسے فوج چھوڑے 8 سال ہو گئے ہیں۔ اس لئے اسے یہاں کے قانون کے مطابق اجازت کی ضرورت نہیں۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home