Tuesday, December 19, 2006

ہنسنا رونا منع ہے

اپنے ہی لوگوں کی مٹی پلید جیسے ہمارے ملک میں حکومت اور اس کے ادارے کرتے ہیں ایسا یورپ اور امریکہ تو کیا لبیا اور سعودی عرب میں بھی نہیں ہوتا ۔ ان ملکوں میں بعض اوقات انسانی جان بچانے کيلئے کئی ادارے بیوقوف بن جاتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقع ۔
چھٹی کا دن تھا ۔ ایک بہت بڑی کمپنی کے کمپیوٹر میں گڑبڑ ہو گئی تو کمپنی کے ایم ڈی نے ماہر انجنیئر کے گھر ٹیلیفون کیا ۔
ایک بچے کی مدھم سی آواز آئی ۔ ہیلو ۔
ایم ڈی ۔ ابو گھر میں ہیں ؟
بچہ ہلکی آواز میں ۔ ہاں ۔
ایم ڈی ۔ میں ان سے بات کر سکتا ہوں ؟
بچہ ۔ نہیں ۔
ایم ڈی نے سوچا شائد غسلخانہ میں ہوں اور پوچھا ۔ آپ کی امی ہیں ؟
بچہ ۔ ہاں ۔
ایم ڈی نے التجا کی ۔ بیٹا اپنی امی سے بات کرا دیں ۔
بچے نے اسی طرح مدھم آواز میں کہا ۔ نہیں ۔
ایم ڈی نے سوچا شائد وہ باورچی خانہ میں ہو ۔ اتنے چھوٹے بچے کو اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا چنانچہ اس نے کہا ۔ آپ کے قریب کوئی تو ہو گا ؟
بچہ مزید مدھم آواز میں بولا ۔ ہاں پولیس مین ۔
ایم ڈی حیران ہوا کہ کمپنی کے انجنیئر کے گھر میں پولیس مین کیا کر رہا ہے ۔ اس نے معاملہ معلوم کرنے کے لئے پولیس مین سے بات کرنے کا سوچا اور کہا ۔ میں پولیس مین سے بات کر سکتا ہوں ؟
بچے نے سرگوشی میں کہا ۔ نہیں ۔ وہ مصروف ہیں ۔
ایم ڈی نے مزید حیران ہو کر کہا ۔ پولیس مین گھر میں کیا کر رہے ہیں ؟
بچہ ۔ وہ ابو ۔ امی اور ایک فائر مین سے باتیں کر رہے ہیں ۔
اچانک فون میں سے گڑگڑاہٹ سنائی دی ۔ ایم ڈی نے پریشان ہو کر پوچھا ۔ بیٹا یہ کیسا شور ہے ؟
بچے نے سرگوشی میں کہا ۔ ہیلی کاپٹر اترا ہے
ایم ڈی نے نہائت پریشانی میں پوچھا ۔ یہ ہیلی کاپٹر کیوں آیا ہے ؟
ایک پریشان سرگوشی میں بچے نے کہا ۔ سرچ ٹیم ہیلی کاپٹر سے اتری ہے ۔
ایم ڈی کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔ ہمت کر کے پوچھا ۔ کیا ہوا ہے ؟ یہ سرچ ٹیم کیوں آئی ہے ؟
بچے نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے سرگوشی میں کہا ۔ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں ۔

2 Comments:

At 12/20/2006 09:18:00 PM, Blogger شعیب صفدر said...

مجھ نا س،جھ کو سمجھ نہیں آئی یہ تحریر!!!

اور سر یہ رہا تحفظ نسواں بل ایک نظر دیکھ لیں
http://www.pakistani.org/pakistan/legislation/2006/wpb.html

 
At 12/21/2006 09:28:00 AM, Blogger iabhopal said...

شعيب صفدر صاحب
نہ سمجھنے ميں آپ کا کوئی قصور نہيں ۔ ايسا واقعہ ہمارے ملک ميں سوچنا بھی بہت مشکل ہے ہونے کا تو فی الحال سوال ہی پيدا ہوتا ۔ يہاں سينکڑوں بچے سچ مچ گم ہو جاتے ہيں اور انہيں سوائے والدين اور بھائی بہنوں کے کوئی تلاش نہيں کرتا اور پھر وہ بھی تھک ہار کر صبر کر ليتے ہيں ۔ متذکرہ بچے نے تو اپنے گھر ميں ايک صوفے کے پيچھے چھپ کر سب کو بيوقوف بنايا اور لطف اندوز ہوتا رہا ۔

نئے قانون کی کاپی کا شکريہ ۔

 

Post a Comment

links to this post:

Create a Link

<< Home